تحقیقِ عارفانہ — Page 178
IZA اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسا ئیو ںکو الزامی جواب دیا ہے کہ۔حضرت مسیح مردانہ صفت کی اعلی ترین صفت سے محروم ہونے کے باعث ازدواج سے کچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“ (مکتوبات احمد جلد ۳ صفحه ۲۸ طبع اول) اب برق صاحب بتائیں کہ آنحضرت ﷺ کے حسن معاشرت کا اعلی نمونہ تو آپ کی ازدواجی زندگی میں ملتا ہے۔مگر عیسائیوں کے لئے حضرت مسیح کی ازدواجی زندگی کا کون سا نمونہ موجود ہے ؟ حضرت مسیح کی دادیاں نانیاں عیسائیوں نے آنحضرت ﷺ کے خاندان پر ناپاک حملے کئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بطور الزامی جواب بائیبل سے دکھایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے خاندان میں تین ایسی عور تیں جو آپ کی دادیاں یا نانیاں قرار پاتی ہیں زناکار اور کسی ایسی تھیں۔اگر عیسائی آنحضرت ﷺ کے خاندان کے آباؤ اجداد کو ناپاک اور گندے قرار نہ دیتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیلئے عیسائیوں کو یہ الزامی جواب دینے کی ضرورت نہ تھی۔اس جواب نے تو عیسائیوں کے آنحضرت عے پر اس حملے کو پورے طور پر رو کر دیا ہے۔بلکہ ہمیشہ کے لئے عیسائیوں کا منہ بند کر دیا ہے اور اب وہ آنحضرت ﷺ کے خاندان پر ناپاک حملہ کر کے آپ کی طرف ناپاکی کی نسبت کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔تمرا، راحاب اور منت سیع کو جو حضرت مسیح کی ایک لحاظ سے دادیاں اور ایک لحاظ سے نانیاں تھیں خود بائیبل بد کار اور کسی قرار دیتی ہے دیکھئے :-