تحقیقِ عارفانہ — Page 90
۹۰ از کم بیس برس پہلے تھا۔(تفصیل آگے آئے گی“ مگر حرف محرمانہ کے صفحہ ۴۵ پر لکھتے ہیں۔وو عجیب بات ہے کہ جناب مرزا صاحب میں نہیں بلکہ تمہیں سال تک مسلسل لکھتے رہے کہ میں نبی نہیں۔حضور پر سلسلہ نبوت ختم ہو چکا ہے۔اب کوئی نیایا پر اتار سول نہیں آئے گا۔"۔( حرف محرمانه صفحه ۴۵) برق صاحب کی ان دونوں عبارتوں کا تضاد ظاہر ہے۔اپنی پہلی عبارت میں وہ تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کا دعویٰ رسالت ۱۸۹۱ء سے کم از کم بیس برس پہلے کا تھا لیکن اگلے ہی صفحہ پر وہ اس کے خلاف یہ لکھتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب ہیں بلکہ تیں سال تک مسلسل لکھتے رہے کہ میں نبی نہیں۔اب قارئین کرام غور فرمائیں کہ اگر جناب برق صاحب کی پہلی بات درست ہے تو دوسری بات غلط ہے۔اور اگر دوسری بات درست سمجھی جائے تو ان کی پہلی بات غلط قرار پاتی ہے۔مگر اصل حقیقت جسے برق صاحب نے چھپایا ہے اور اس کے متعلق ضروری حوالہ جات پیش نہیں کئے یہ ہے کہ اپنی نبوت سے انکار اور اپنی نبوت کے اقرار کے متعلق حضرت اقدس کے دونوں قسم کے حوالے جو برق صاحب نے دونوں فصلوں میں بیان کئے ہیں۔وہ نبوت کی دو تعریفیں ملحوظ رکھ کر ہیں۔اور دونوں قسم کے حوالوں کا حل خود حضرت اقدس نے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ " میں یوں پیش کیا ہے کہ۔" جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ ہی مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے نبی اور رسول ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی