تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 16
14۔۔کہ کشمیر کی پہاڑیوں کے گاؤں میں ایسے لوگوں کے چہرے دیکھے جاتے ہیں۔جن کی ساخت اسرائیلی بزرگوں سے بہت ملتی ہے۔ملیکہ بعض لوگ کہتے ہیں۔گو اس پر کوئی بہت سند نہیں۔کہ یہ لوگ اسرائیلیوں کے کھوئے ہوئے دس قبیلوں کی اولاد ہیں۔-۱۸ امپیریل گنریٹر کی جلد کشمیر مطبوعہ کلکتہ شقاء کے صفحہ ۳۵ پر لکھا ہے کہ کشمیر کے ہانجی (لاح ، حضرت نوح کی اولاد میں سے ہونے کے مدعی ہیں۔۱۹ - جیمز منی صاحب اپنے سفر نامہ کشمیر کے صفحہ ۱۴۵ پر لکھتے ہیں کہ کشمیریوں کے چہرے چوڑے ناک نوکدار اور بدن یہودی ہونے کے ہیں -۲۰ - کپتان سی۔ایم۔ان ری کو یز - اپنی کتاب سفرنام کش می روم لنڈن شلوار کے صفحہ ۷ و پر لکھتے ہیں۔میں نے اپنے ایام قیام سیریا سرینگر میں مجیب روایات سنیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ مسیح کی قبر کشمیر میں ہے۔شہر سرینگر بہت قدیم کھنڈرات اور قبروں سے بھرا پڑا ہے۔جن کی صحیح تاریخ کا اب پینتا نہیں لگ سکتا : ۲۱- یوروپین اور امریکن سیاح جود کشمیر کی سیر کے واسطے جاتے ہیں۔عمو ٹا قبر مسیح کو بہت دل چسپی سے دیکھتے ہیں۔اور اس کا فوٹو لے جاتے ہیں۔اور اپنے ملک سے اخباروں اور رسالوں میں شائع کرتے ہیں۔چنانچہ ہمارے مکرم دوست با بو محمد علی خانصاب شاہجہانپوری جو ان ممالک کے سیاحوں کے ساتھ بطور گائڈ اور ترجمان کے پھرا کرتے ہیں۔اپنے خط مورخہ ۲۹ ستمبر ۱۹۳۷ ء میں عاجز کو