تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ

by Other Authors

Page 9 of 187

تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 9

محقق مسٹر تھیوی نٹ نے جو کتابوں کے مطالعہ سے بھی بڑے بڑے انکشافات کیا کرتا تھا۔اسے ایک خط لکھا جس میں اس سے بعض سوالات دریافت کئے۔ایک سوال یہ تھا۔کہ آیا یہ سچ ہے کہ یہودی ایک بہت لمبے عرصہ سے کشمیر میں بود و باش رکھتے ہیں۔اور آیا ان کے پاس کتاب مقدس موجود ہے یا نہیں۔اس کے جواب میں ڈاکٹر بر نیر نے لکھا۔کہ کشمیر میں یہودیت کی بہت سی علامتیں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ پیر پنجال سے گزر کر جب میں اس ملک میں داخل ہوا۔تو دیہاتی کے باشندوں کی صورتیں یہودیوں کی سی دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ان کی صورتیں اور ان کے طور طریق اور وہ نا قابل بیان خصوصیتیں جن سے ایک سے تیاح مختلف اقوام کے لوگوں کو خود بخود شناخت اور تمیز کر سکتا ہے۔سب یہودیوں کی پرانی قوم کی سی معلوم ہوتی تھیں میری بات کو آپ محض خیالی ہی تصور نہ فرمائیے گا۔ان دیہاتیوں کے یہودی نما ہونے کی نسبت ہمارے پادری صاحب اور اور بہت سے فرنگستانیوں نے بھی میرے کشمیر جانے سے بہت عرصہ پہلے ایسازی لکھا ہے۔کرنل جارح فاسٹر صاحب نے اپنی ایک چٹھی میں جو کشمیر سے ۱۷۸۳ء میں لکھی تھی۔لکھا ہے۔کہ جب پہلے پہل میں نے کشمیریوں کو دیکھا۔ان کے لباس اور ان کے چہرے کی ساخت سے جو لمبا اور سنجیدہ طور کا تھا۔اور ان کی ڈاڑھی کی وضع سے یہ خیال کیا۔کہ گویا میں یہودیوں کے ملک میں آگیا ہوں۔دوسری علامت یہ ہے۔کہ اس شہر کے باشندے باوجود یکہ تمام مسلمان ہیں۔مگر پھر بھی ان میں سے اکثر کا نام موسسے ہے میرے یہاں