تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 121
دہ یہودیوں کی طرح دانا رات اپنے گرجے کی شمع روشن رکھتے۔گرتے پر کوئی صلیب نہیں ہوتی۔بڑا بے چینہ جو روایات ان میں میں آتی ہیں۔وہ یہیں ستاتی ہیں۔کہ تھو نا حواری ہندوستان میں آیا۔اس کے ذریعہ سے وہ عیسائی ہوئے کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی۔کہ خواہ مخواہ لوگوں نے ایک بھوت بنا لیا ہو۔اور پھر اس جھوٹ پر پشت در پشت ما یکر آئے ہوں۔ممکن ہے کہ مرویہ زمانہ سے ان روایات ہیں کچھ باتیں مل جل گئی ہوں، لیکن کم از کم اتنی اصلیت مشترک مصدته شر در ہے۔کہ کانتونا حواری وہاں پیو نیچے۔اور ان کے ذریعہ سے وہ لوگ مائی ہوتے۔-۲- دوسری بڑی شہا دست خود قبر ہے۔جو اب تک موجود ہے۔اس یکہ ایک بڑا تجاری کر جانا ہوا ہے۔جبہ میں بدر اکیس گیا۔تو ایک ان اس قبر کو دیکھنے کے واسطے گیا۔صبح کا وقت تھا۔گرتے کے در سب طرف سے کھیلے تھے۔اور عیسائی لوگ صبح کی عبادت کرنے کے واسطے اس کے اندر آجا رہے تھے۔یہ اتوار کا دن نہ تھا۔اس دائے با ما خستہ نماز نہ تھی بلکہ لوگ اپنے طور پر کچھ عبادت کر کے پہلے آتے تھے۔میں نے گر جائے یا ہر ایک شخص سے دریافت کیا۔کہ تھو ما در ارمی کی قبر کہاں ہے۔میں اُسے دیکھنا چاہتا ہوں۔وہ شخص میرے ساتھ سوا اور گرجے کے بڑے ہال میں مجھے لے گیا۔جہاں اس نے مجھے زمین میں ایک گڑھا سا دکھایا۔جو پادری صاحب کے کھڑا ہونے کے پلیٹ فارم کے آگے بال کے وسط میں تھا۔اس گڑھے کے اردگرد ایکس خوبصورت کثیرا لگا ہوا ہے۔اور ایک طرف سے نیچے اترنے کا مہینہ ہے۔۔"