تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ

by Other Authors

Page 119 of 187

تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 119

دنیا کو پہونچائیں۔اس واسطے ان کے اس پیغام کا نام بشری انتشارت۔۔سند کی ناصری نے خود نے خود لکھی مل ہوا۔مگر آج دنیا بھر میں نہ عیسا دوسرے کے پاس ایسی کتاب ہے۔جو ہو۔یا کھائی ہو۔یا آپ کے زمانہ میں لکھی گئی ہو۔یا آپ کی طرحت نے منسوب کی جاتی ہے۔جن کتابوں کو اب انیل کہا جاتا ہے۔دکا حضرت مسیح کے بعد بطور تاریخی وا تھا۔م واقوام کے ھی کرتی تھی۔بجہ اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ مسیح کے حوار یوں ہوا دی ہو۔جیسا کہ حضرت کی موعود کے بہت سے فوام کو یہ نعمت عطا کی گئی ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو کچھ انہوں یا سنیے بولا یا لکھا۔وہ سب الہامی تھا۔جب تک کہ کم از کم وہ اس بات کو تا ہیں امید: نہ کریں۔کہ یہ کلام الہی مسجد لیکن مروجہ انا حسین کے محسنین نے یہ دعو نہیں کیا۔کہ وہ الہانہ انہی سے لکھ ر ہے ہیں۔اور نہ ان بزرگوں نے اپنی کتابوں کا نام انہیں رکھا۔بلکہ بعد میں آنے والے لوگوں نے اس ہوا میں ہے کہ ان میں ایک آسمانی بادشاہت کے آنے کا ذکرہ ہے۔ان کا تحمیل کیا۔اور ایسی اناجیل ا شیدائی زمانوں میں بہت ساری تمھیں۔ان کی تعداد قریب ستر کے بھی جن میں سے بعض علما نے بتائیں کتابوں کا انتخاب کر کے انہیں ایک کتاب کی صورت میں مجمل کیا۔باقی تینتالیس کتابیں بھی بطور روایات کے پادری صاحبان اپنے پاس رکھتے تھے۔اور ان کی فراستہ کرتے رہے۔ان کو ایسا کرنا سکہتے ہیں۔اس مجموعہ ایسا کرنا میں ایک کتاب نیام اعمال ھو ما نیسی ہے جی میں تھوتا کے ہندوستان آنے اور شہید ہو کو نہیں دفن ہونے کا ذکر تامر