تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 8
i ۱۹ حضرت شیخ عبد الکریم خیلی بینی نے انہیں جلدوں میں بسم اللہ کے ہر حرف کی تفسیر لکھی ہے قطب الاقطاب غوث اعظم شیخ الاسلام محی الدین حضرت سید عبدالقادر جیلانی دمنوشی (2) کی مجلس میں کسی قاری نے ایک آیت پڑھی۔آپ نے اس آیت کی چالیس تفسیر میں بیان فرمائیں۔ابی ملیس آپ کے اس کمال علمی پر دنگ رہ گئے۔تھے حضرت قاضی ابوبکر محمدب العربي الاشبیلی متولی 2004 قانون التاویل میں فرماتے ہیں کہ قرآن میں نشتر ہزارہ علوم موجود ہیں۔گئے " حضرت الشیخ الکامل ابو محمد - وزجهان شیرازی (متوفی ۶۰۶ھ) نے تفسیر عرائس البیان کے دنیا چھ میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے اس ازلی کلام کے ظاہر و باطن کی کوئی حدو نہایت نہیں اور نہ اس کے کمال اور انتہا تک کوئی پہنچ سکا ہے۔وجہ یہ کہ اُس کے ہر حرف کے نیچے اسرارہ کا سمندر موجزن ہے اور انوار کی نہر جاری ہے۔" کسی نے خوب کہا ہے سے جمِيعُ العلم في القرآن العينُ تَقَاصَرَ عَنْهُ أَنْهَامُ الرِّجَالِ یعنی سب علوم قرآن مجید میں موجود ہیں ، لیکن لوگوں کی سمجھد ان سے قاصر ہے۔ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ پرانے بزرگوں کے نزدیک بھی قرآن مجید کی آیات ذو المعارف میں اور کئی وجوہ سے اُن کی تفسیر ہو سکتی ہے۔صرف ایک ہی تفسیر پر انحصار نہیں ہو سکتا بنا کسی کا عرفان ہو گا اس کے مطابق اس پر قرآن کریم کے معانی گھلتے جائیں گے۔چنانچہ حضرت خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد مبارک ہے کہ مکتوبات حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (ارد) ص ۲۵۱ ناشر مدینہ پبلشنگ کمپنی بندر روڈ کراچی نه اخبار الاخيار اردو ص ۳۵ ( حضرت شیخ عبد الحق محدث ولوی ناشر دین پبلشنگ کمپنی بندر روڈ کراچی ے اتقان نوع د سیوطی " ج ۲ ص ۱۴۹ مطبوعہ مصر ۱۲۷۸ د هـ ص ۳ مطبع نولکشور