تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 59
04 نیز فرماتے ہیں : " فَالنَّبوة سارية الى يوم القيامة في الْخَلْقِ وَإِن كَانَ التَّشْرِيعُ قد انقطع فالتشريع جزء من أجزاء النُّبوة " له ترجمہ : یہ نبوت مخلوق میں قیامت تک جاری رہے گی۔اگر چہ شریعت کالا نا منقطع ہو گیا۔شریعت کا لانا تو نبوت کا ایک جزء ہے۔ساتویں صدی ھجری کے متکلم اسلام اور مفتر قرآن حضرت امام فخر الدین رازی (04۔4-DONN) لکھتے ہیں : " وَلمَّا كانَ الخَلق محتاجين الى البعثة والرحيم الكريم قادراً عَلى البعثَةِ وَجَبَ فِي عَرَمهِ وَرَحْمَتِه إِن تَبْعَثُ الرُّسُلَ إِليهم كله ترجمہ : اور جب کہ مخلوق بعثت انبیاء کی محتاج ہے اور رحیم وکریم خدا بعثت پر قادر بھی ہے تو اس کے کرم اور رحمت کی رو سے واجب ہوا کہ رحسب ضرورت) وہ ان کی طرف رسول بھیجے اور آٹھویں صدی ھجری میں سلطان مجاہد ابوالفتح محمد شاه تعلق بہت فیاض ا شعائر اسلامی کے پابند اسلامی بادشاہ تھے جنہیں زبان عربی و فارسی میں بہت دستگاہ تھی۔تحریر و تقریر میں صاحب کمال ، شعر و سخن میں یگانہ روزگار اور منطق و الہیات اور طبعیات کے بہت بڑے عالم تھے یہ سلطان نے بھی ایک بار علی الاعلان اس تعیال کا اظہار کیا کہ : جب اللہ تعالی کا فیض و کرم ختم ہو نیوالا نہیں تو نبوت کا فیض کس طرح ختم ہو سکتا ہے۔اس وقت بھی اگر کوئی نبوت کا دعوئی کرے اور خوارق عادات و معجزات دکھائے تو اس کو نبی تسلیم کرنے سے کونسا t- امر مانع ہے باشه فتوحات مکیہ جلد نمبر ۲ ص ۹۰ (مطبوعہ دارالكتب العربية الكبرى مصرى) ه تفسیر کبیر جلد ۱ ص ۱۹۵ المطبعة البهيته مصری شاه سے تاریخ ہندوستان جلد دوم ص ۱۰۸ - ۱۰۹ الشمس العلماء مولوی محمد د کا۔اللہ صاحب دہلوی) مطبع انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ شات سے اخبار الاخیار اُردوص ۴۲۸ (مصنف حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی) 1414 سنده تالیف 1999 ناشر مدینہ پیشنگ کمپنی بندر روڈ کراچی ٩٩٩ھ