تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 73 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 73

علامہ زمخشری نے اس عبارت کے آخری فقرہ " وَكَذَالِكَ كُلُّ مَنْ كَانَ فِي صِفَتِهِما “میں بتایا ہے کہ اس حدیث کے لفظ مریم اور ابن مریم کا اطلاق ان تمام پر آتا ہے جو صفاتی طور پر مریمیت اور عیسویت کے رنگ میں رنگین ہیں۔اسی لئے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ جو شخص مجامعت کے وقت بِسمِ اللهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنا پڑھ لے گا اس کا بچہ مست شیطان سے پاک ہوگا ( مشکوۃ باب الدعوات صفحہ (۲۱۲) غور فرما دیں ایک طرف اُمت کو وہ طریق بتادیا جس سے اولا د مست شیطان سے محفوظ رہ سکتی ہے اور دوسری طرف بطور حصر فرمایا کہ ہر بچه بجز مریم و ابن مریم میں شیطان سے ملوث ہو جاتا ہے۔گو یا بالفاظ دیگر صاف فرما دیا کہ امت کے بعض بچے صفت مریمی سے متصف ہوں گے اور بعض عیسوی رنگ میں رنگین ہوں گے۔وهو المراد اس سارے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ صفاتی طور پر مریم اور ابن مریم بنناممکن بلکہ ضروری ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اسی طریق پر مریم قرار دیا اور پھر ابن مریم بتایا۔یعنی صرف صفاتی اشتراک ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں :- (الف) و بعض افرادِ اُمت کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ مریم صدیقہ سے مشابہت رکھیں گے جس نے پارسائی اختیار کی۔تب اس کے رحم میں عیسی کی رُوح پھونکی گئی اور عیسی اُس سے پیدا ہوا۔اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس اُمت میں ایک شخص ہوگا کہ پہلے مریم کا مرتبہ اس کو ملے گا پھر اس میں عیسی کی رُوح پھونکی جائیگی۔تب مریم میں سے عیسی نکل آئے گا یعنی وہ مریمی صفات سے عیسوی صفات کی طرف منتقل ہو جائے گا۔گویا مریم ہونے کی صفت نے عیسی ہونے کا بچہ دیا۔پس اس لحاظ سے میں عیسے بن مریم کہلایا کیونکہ میری عیسوی حیثیت مریمی حیثیت سے خدا کے نفع سے پیدا ہوئی۔(کشتی نوح صفحہ ۴۵) (ب) - مڈتے بودم برنگ مریمی دست را داده پیران زمی یہ ہیچو بکرے یافتم نشو و نما از رفیق راه حق نا آشنا 73