تفہیماتِ ربانیّہ — Page 520
آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسی عور تیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ ہم اُو پر مفصل بتا چکے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی یہ تحریر الزامی طور پر بائیبل کے بیانات کے لحاظ سے ہے۔یعنی از روئے عقائد و مسلمات نصاریٰ یہ بات درج ہوئی ہے۔چنانچہ ایک دوسری جگہ صراحتا فر مایا :- ” ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری والدہ سے لیکر حوا تک میری ماؤں کے سلسلہ میں کوئی عورت بدکار اور زانیہ نہیں ، اور نہ مرد زانی اور بدکار ہے لیکن بقول عیسائیوں کے ان کے خدا صاحب کی پیدائش میں تین زنا کار عورتوں کا خون ملا ہوا ہے۔“ پھر فرمایا : ست بچن حاشیه صفحه ۱۶۸) یسوع کی بعض نانیوں اور دادیوں کی جو حالت بائیبل سے ثابت ہوتی ہے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔ان میں سے تین جو مشہور ومعروف ہیں ان کے نام یہ ہیں بنت عا سبیح ، راحاب تمر (الحکم ۲۱ فروری ۱۹۰۲ء) بعض لوگ اس موقع پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگر یہ بیان بطور الزام خصم از روئے بائییل ہے تو بتاؤ بائیبل میں ان عورتوں کے زناکار ہونے کا کہاں ذکر ہے؟ سو اس کے لئے بھی میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر پیش کرتا ہوں تا اس سے ایک طرف جس طرح یہ ثابت ہو جائے کہ یہ بات حضرت اقدس کے اپنے مسلمات میں سے نہیں تھی بلکہ حضور نے محض بطور الزام نصاری لکھی تھی ویسے ہی دوسری طرف یہ بھی پتہ لگ جائے کہ ایسا ذکر کہاں مذکور ہے؟ حضرت تحریر فرماتے ہیں :- عجیب تریہ کہ یہ کفارہ یسوع کی دادیوں اور نانیوں کو بھی بدکاری سے نہ بچا سکا۔حالانکہ ان کی بدکاریوں سے یسوع کے گوہر فطرت پر داغ لگتا تھا اور یہ دادیاں نانیاں صرف ایک دو نہیں بلکہ تین ہیں۔چنانچہ یسوع کی ایک (520