اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 1

تدريس نماز اللهِ الرَّحمنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اردو کلاس میں تدریس نماز نيت وَجَّهُتُ وَجُهِيَ للَّذِي فَطَرَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ میں نے اپنی ساری توجہ اس ذات کی طرف، اسی کا فرمانبردار ہو کر پھیر دی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا۔اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ثناء سُبحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ سُبحَانَ » پاک۔جو چیز پاک ہو۔ایک چیز گندی ہو جائے اس کو آپ دھو لیں ، اچھی طرح مل مل کے صاف کر کے تو وہ پاک ہو جاتی ہے۔کپڑے پاک ہو جاتے ہیں۔عورتیں کہتی ہیں ہم نے اپنے کپڑوں کو دھویا ، صاف کیا، بچوں کے کپڑے دھوئے ، ان کو پاک صاف کر دیا۔پاک کیا چیز ہوتی ہے؟ جس پر کوئی داغ نہ رہا ہو، کوئی کمزوری نہ رہی ہو۔لیکن صرف پاک ہی ہو تو کافی نہیں۔اس کے اندر کچھ اور بھی ہونا چاہئے۔جو کپڑا صاف ستھرا ہو جائے وہ پھر رنگ بھی قبول کر سکتا ہے۔اس کپڑے کو جو چاہو رنگ دے دو۔جیسے چاہو پھول بنا لو اس کے اوپر۔گندے کپڑے پر نہیں بنتے۔گندے کپڑے پر لگاؤ تو اس کے اندر کے داغ نکل کے رنگ کو گندا کر دیتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اے اللہ تو ہر عیب سے پاک ہے، مگر صرف پاک ہی نہیں بلکہ : وَبِحَمْدِكَ : ایسی خوبیوں سے بھرا پڑا ہے جو کامل ہیں۔تو صرف عیبوں سے پاک ہونا کافی نہیں، خوبیاں رکھنا بھی ضروری ہے۔تو یہ مکمل تعریف ہے۔سُبحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ پاک ہے تو اے اللہ اور اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے۔یعنی صرف پاک ہی نہیں بلکہ ہر حد تیرے اندر موجود ہے۔وَتَبَارَكَ اسْمُكَ :