تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 84
علامات المقربين ۸۴ اردو ترجمه ومن علاماتهم أنهم يُعطون ان کی ایک علامت یہ ہے کہ انہیں ان کے رب كلماتٍ تُفصَحُ من عند کی طرف سے فصیح کلام عطا کیا جاتا ہے کسی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ویسا کلام کر سکے اور نہ ربهم، فما كان لبشر أن يقول ہی ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔رحمان کے بندے كمثلها ولا يُبارزون۔وإن عباد فصیح کلام کی ایسی ہی آرزو رکھتے ہیں جیسے وہ عمدہ الرحمن قد يتمنون كَلِما معارف کی تمنا کرتے ہیں ، پس وہ جو بھی طلب فصيحة كما يتمنون معارف کرتے ہیں انہیں دیا جاتا ہے۔اللہ کی اپنے اولیاء مليحة فيُرزقون كُلَّ مَا يطلبون۔کی بابت یہ عادت جاری ہے کہ (پاک) دل کی وكذالك جرت عادة الله فی طرح انہیں ( فصیح ) زبان بھی عطا کی جاتی ہے۔أوليائه أنّهم يُعطون لسانًا كما اللہ ہی انہیں بلواتا ہے اور وہ اس کے بلانے سے يُعطون جنانًا، ويُنطقهم الله بولتے ہیں اور جس طرح ایک عورت کو بحالت فبإنطاقه ينطقون۔وكما أن حمل کسی کھانے کی شدید اشتہا ہوتی ہے ، تو اس کا خاوند اس کے لئے اس کی خواہش کے مطابق وہ المرأة إذا وحمت يُعدّ لها بعلها کھانا مہیا کرتا ہے بعینہ اسی طرح ان مقر بین الہی ما اشتهت، فكذالك إذا نفخ کے اندر بھی جب روح پھونکی جاتی ہے تو اللہ کی طرف سے ان کے اندر خواہشات پیدا کی جاتی الروح فيهم خُلِقَتُ فيهم أماني من الله لا من النفس الأمارة ہیں نہ کہ نفس امارہ کی طرف سے اور ان کی فتعطى أمانيهم ولا يُخيبون خواہشات انہیں عطا کی جاتی ہیں اور وہ محروم نہیں وكذالك أُعطِيتُ كلامًا من کئے جاتے۔اسی طرح مجھے اللہ کی طرف سے کلام الله فأتوا بمثل كتابنا هذا إن عطا کیا گیا ہے اگر تم شک کرتے ہو تو لاؤ ہماری اس کتاب کی مثل پیش کرو۔کنتم ترتابون۔