تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 75
علامات المقربين ۷۵ اردو ترجمه ويوصل ما كانوا يحسمون۔اور جو رشتہ وہ توڑ رہے تھے اسے جوڑ دے اور اسی وكذالك جرت سُنته في عباده طرح اس کی سنت اپنے بندوں میں جاری ہے کہ وہ احسان کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا اور أنه لا يضيع أجر قوم يحسنون، وہ جو اس کے لئے تذلل اختیار کرتے ہیں وہ انہیں ولا يضرب الذلة على الذين ذلت کی مار نہیں مارتا بلکہ وہ عزت دیئے جاتے ہیں يتذلّلون له بل هم يكرمون۔ومن اور وہ (شخص) جس نے اپنے رب سے اخلاص کا صـافـا ربـه ووفـي وسـتـر أمــره معاملہ رکھا اور عہد پورا کیا اور اپنا حال پوشیدہ اور مخفی وأخفى، ما كان الله ليتركه في رکھا تو پھر اللہ بھی ایسے شخص کو گمنامی کے گوشوں میں پڑا زوايا الكتمان، بل يكرمه ويُعزّه رہنے نہیں دیتا بلکہ اسے اکرام وعزت دیتا اور عام ويـفـور لطفه لإكرامه بين الناس | لوگوں اور اپنے بھائیوں میں اس کی عزت افزائی کی والإخوان۔ويحب رفع ذكره خاطر اس کا لطف و کرم جوش مارتا ہے۔وہ (خدا) پسند إلى أقاصى البلدان كما ينهم فرماتا ہے کہ جس طرح بھوکا شخص کھانے کی زبر دست اشتہا رکھتا ہے۔ایسے ہی وہ اس شخص کے ذکر کو دور دور الجوعان، وإن العبد المقرّب يقنع على بُلسن ويعاف التنعم والادمان، فيخالفه ربه ويُعطيه العناقيد والرمان کے ممالک میں بلند کرنا چاہتا ہے۔اللہ کا مقرب بندہ مسور کی دال پر (ہی) قناعت کر لیتا ہے اور تنعم اور عیش کوشی سے نفرت کرتا ہے تو اس کا رب (اس سے) اس کے برعکس معاملہ کرتا ہے اور اسے پھلوں کے وإنـه يـخـتـار حـجـرة الاختفاء خوشے اور انار عطا کرتا ہے۔وہ گوشہ تنہائی اختیار کرتا ليعيش مستورًا إلى يوم الفناء ہے تا کہ وہ تادمِ مرگ مستور زندگی گزارے۔لیکن اللہ فيخرجه الله من حجرته بالإيحاء، وحی کے ذریعے اسے اس کے حجرہ سے باہر نکالتا ہے ويرجع مخلوقه إلى حضرته پھر وہ اپنی مخلوق کو، اس کی طرف رجوع کرتا ہے