سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 637 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 637

637 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کتاب دھم پر دیکھی اور یہ محسوس کیا کہ حضرت کا چھوٹا سا رسالہ جو کم سنی کے عالم میں لکھا گیا تھا بدھ مذہب کی کل بڑی تعلیمات پر حاوی ہے۔پھر میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے سکون میسر کرے تو میں دھم پر کی ہر تعلیم کا اسلامی تعلیم سے مقابلہ کروں اور اس کام میں حضرت ممدوح سے استفادہ حاصل کروں۔ہائے افسوس یہ حسرت دل ہی میں رہ گئی اور مولانا چل بسے۔اللہ تعالیٰ ان کو حضرت نبی کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں جگہ دے اور ان دعاؤں کو جو وہ حیات میں آپ کے لئے کر گئے ہیں سنے۔وہی آپ کا والی ہواور ساری ضرورتوں کا کفیل ، خدا داری چه غم داری علی اختر از حید آباد بنام سیده نصیرہ بیگم صاحبہ بنت حضرت میر صاحب پیاری نصیرہ ! السلام علیکم یہ اچانک خبر کس قدر رنجدہ اور سہا دینے والی تھی کہ ماموں جان میر صاحب جماعت کے ایک با برکت وجود سلسلہ کے بچے خادم و خادم خلق ہم سے رخصت ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون کئی دن سے خط لکھنے کا ارادہ کر رہی تھی۔مگر میری طبیعت کچھ اس قدر نڈھال اور دل ایسا پریشان رہا کہ باوجود کوشش کے نہ لکھ سکی۔ان دوصدموں سے دل ایسا غمگین اور پریشان جس کی وجہ سے میری طبیعت خراب ہوگئی۔ان پر یشانیوں اور غم کی کوفت نے مجھے ایسا نڈھال کئے رکھا ہے چاہا بھی تو نہیں لکھا گیا۔ویسے تمہارا اور ممانی جان کا مجھے ہر وقت خیال رہتا ہے۔آج کل تو بس دعائیں ہی بہت کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے لئے ہی تو سب کچھ ہے۔یہ تو خوشی کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے ماموں جان کی خدمات کو قبول کیا۔جو ان کی زندگی کا مقصد تھا۔اسی مقصد میں جان دیکر شہید ہو گئے۔گواپنے دل اس وقت غمگین ہیں نہ صرف ان کی جدائی سے بلکہ اس لئے بھی کہ جماعت کو اتنے بڑے عالم اور فیض رساں وجود کے اٹھ جانے سے نقصان پہنچا ہے۔مگر وہ خود تو خوش نصیب تھے۔زندگی اور موت دونوں شاندار۔ممانی جان کتنی نیک بیوی ہیں۔کتنا اعلیٰ صبر وتحمل کا نمونہ دکھا رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کا