سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 635
635 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کچھ اور خطوط تعزیت بحضور حضرت اُم المؤمنین مدظلہا العالی میری مقدس معظم محترم ماں حضرت ام المؤمنین السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔آج عزیز مکرم غلام سرور صاحب طالب علم مدرسہ احمدیہ کا تار ملا۔جس سے ہمارے بھائی حضرت میر محمد الحق صاحب کی المناک وفات کا علم ہوا جس قدر دلی صدمہ مجھ کو اور میری بیوی کو ہوا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ہمارے قلوب مجروح اور ہمارے سینے فگار اور ہماری آنکھیں اشکبار ہیں۔میرے ساتھ جو کچھ ہمدردی ، محبت ، اخلاص، شفقت حضرت میر صاحب فرمایا کرتے تھے اس کا تقاضا ہے کہ ہمارے دل روئیں ہماری آنکھیں اشک بہائیں اور ہم اس جدائی میں جس قدر رنج کریں کم ہیں۔مگر ان سب باتوں کے باوجود ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قول سے تسکین پاتے ہیں کہ ”بلانے والا ہے سب سے پیارا اور ہم اس کی رضا پر راضی ہیں یا جیسے ہمارے مقدس پیارے امام حضرت مصلح موعود نے فرمایا ہے کہ سب سے بہتر تعزیت ہمارے رب نے ہم کو سکھائی ہے اور وہ یہ ہے کہ انا لله وانا اليه راجعون۔یہی میں حضور کی خدمت با برکت میں نہایت ادب سے پیش خاکسار محمد زبیر ( ایم۔بی۔بی۔ایس ) کرتا ہوں۔حضور کا ادنیٰ خادم بخدمت حضرت میر محمد اسمعیل صاحب مولانا میر محمد اسمعیل صاحب دام مجده السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اماً بعد۔اس نئے صدمہ کا سخت قلق ہے اور آپ کے تمام خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی ہے اور دعا ہے کہ صبر جمیل خداوند کریم محض اپنے فضل سے مرحمت فرمائے۔البتہ اس امر کا قلق رہ گیا کہ ایسا موقعہ نہیں ملا کہ سیدہ ام طاہر کی طرح گریہ وزاری سے دعائیں کرتے۔پھر مرضی مولیٰ پر صابر و شاکر ہو جاتے۔اب یہی دعا ہے کہ مولا کریم مرحوم کو اپنے