سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 628
628 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے ) کی وفات کی خبر اچانک ہمیں ملی اور اس قدر تکلیف اور صدمہ کا موجب ہوئی کہ الفاظ اسے بیان نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم لوگوں کی تربیت احمدیت کی آغوش میں ہوئی ہے۔اس لئے گوشت پوست کا دل خواہ کس قدر تکلیف ہی کیوں برداشت نہ کرے۔روح انا للہ و انا اليه راجعون کہتی ہوئی آستانہ الہی پر جھکتی اور اس کی رضاء پر راضی ہوتی ہے۔خدا کے دین کے ایک مجاہد نے اپنی ساری زندگی اس کی راہ میں خرچ کرنے کے بعد اس کے دین کی خاطر کام کرتے ہوئے میدان عمل میں اپنی جان اپنے رب کے حضور پیش کی اور خدا نے اسے قبول کیا اور خود اس کی جزا بنا۔مگر آنکھیں نمناک اور دل ہمارے دکھیا ہیں۔اس خیال سے کہ اسلام کے اس کسمپرسی کے زمانہ میں خدا کے اسلام کا ایک مجاہد اس کے دین کا ایک اور سپاہی (جس کی زندگی ہمارے لئے صدر شک تھی جس کا نمونہ ہمارے لئے ایک اعلیٰ نمونہ تھا ) کم ہو گیا ہے۔انا للہ وانا اليه راجعون اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی خاطر اپنی زندگیاں حقیقی معنی میں وقف کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔اللہ تعالیٰ ہم سب سے وہ کام کروائے جس سے وہ راضی ہو اور جب ہم اس دنیا سے جدا ہوں تو ہمارا رب ہمیں اپنی رضا کی جنت میں اپنے ان بزرگوں کے پہلوؤں میں جگہ عنایت فرمائے جو ہم سے پہلے جام شہادت پی کر اس کے حضور حاضر ہو چکے ہیں۔اللهم امین - انت مولانا ونغم الوكيل صاحبزادہ حافظ ) مرزا ناصر احمد ۶۔پیاری ممانی جان السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکانہ۔ماموں جان کی وفات کی اچانک خبر سے سخت صدمہ ہوا۔انا لله وانا اليه راجعون - مجھے تو یقین نہ آتا تھا اور بڑی بے چینی اور اضطراب میں یہ گزشتہ دو چار دن گزرے ہیں۔ماموں جان کا وجو د سلسلہ کے لئے ایک بہت قیمتی وجود تھا اور ان کی اس بے وقت وفات سے سلسلہ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور اس صدمہ کے برداشت کرنے کی طاقت دے۔پرسوں ہی میرے پاس ایک یہاں کے احمدی آئے تھے۔بیچارے روتے رہے کہہ رہے تھے کہ باوجود اس کے کہ