سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 362
362 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سلسلہ کے لئے فدایا نہ رنگ رکھنے میں اپنی آپ نظیر ہیں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز جب دینی ضروریات کے لئے قادیان سے باہر تشریف لے جاتے ہیں تو آپ ہی کو امیر جماعت مقرر فرماتے ہیں۔آج کل آپ قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ کے کام میں مصروف ہیں۔انھوں نے عزیز مکرم مرحوم محمود احمد عرفانی کی درخواست پر کچھ روایات لکھ کر روانہ کی تھیں۔ان میں سے بعض درج ہوگئی ہیں باقی ذیل میں درج کرتا ہوں۔(عرفانی کبیر) حضرت ام المؤمنین کی روحانیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متعدد مرتبہ اس کا ذکر فر مایا کہ کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوا ہے کہ جب رؤیا یا وحی کے ذریعہ سے کسی امر کا مجھ پر انکشاف ہوا تو بسا اوقات ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ ہمارے گھر والوں کو بھی اس امر کے متعلق کوئی خواب یا ر و یا دکھایا جاتا ہے یہ امر آپ کی روحانی صفائی کا بین ثبوت ہے کہ جس امر کا انکشاف اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فرماتا ہے اسی کا انعکاس آپ کے قلب مطہر پر بھی ڈالا جاتا ہے۔حضرت ام المؤمنین کا صبر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک صحبت کا ہی یہ حیرت انگیز اثر ہے کہ آپ نے سخت سے سخت غم کی گھڑیوں میں صبر کا نہایت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے اور کبھی جزع فزع سے کام نہیں لیا۔چنانچہ جب آپ کا پیارا بیٹا مبارک احمد فوت ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس کی والدہ نے اس موقعہ پر سوائے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنے کے اور کسی قسم کی بے قراری اور گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا۔اسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہوا تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی روایت ہے کہ اس وقت جو کلمات حضرت ام المؤمنین کی زبان پر جاری ہوئے وہ یہ تھے آپ نے اس وقت اپنے خدا کو مخاطب کر کے کہا کہ اے خدا ! یہ تو ہمیں چھوڑ چلے ہیں پر تو ہمیں نہ چھوڑ یو۔اس وقت یہ صرف آپ کے صبر کا ہی مظاہرہ نہ تھا بلکہ آپ کے ایمان اور تو کل علی اللہ کا بھی مؤثر نمونہ تھا اور یہ آپ کی معرفت الہیہ پاکیزہ فطرتی کا اثر تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے