سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 360
ہے۔360 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ۔خطوں کے جواب بھی کسی اور سے لکھواتا ہوں۔لیکن عزیز شیخ محمود عرفانی سلمہ اللہ تعالی کے بار بار اصرار پر ان کی نہایت مفید اور بابرکت تازہ تصنیف کے لئے چند سطریں ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔مهمان نوازی دسمبر ۱۸۹۰ء تھا یا جنوری اوحاء جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیعت سے مشرف ہوا۔اس وقت میری عمر انیس سال کے قریب تھی۔ان دنوں ہم صرف دو مہمان تھے ایک یہ عاجز اور دوسرے سید فضل شاہ صاحب مرحوم اور ہمارا کھانا حضرت اُم المؤمنین کے انتظام کے ماتحت اندر سے پک کر آتا تھا۔اس کے بعد عاجزان گنت دفعہ مکرمہ کی مہمان نوازیوں اور مہر بانیوں سے فیض یاب ہوتا رہا۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل مولوی حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بیوی صاحبہ بہت ہی مخیر ہیں۔غربا پروری ان کے ذریعہ سے بہت سے غریبوں کی پرورش ہوتی ہے۔کئی یتیموں اور بیکسوں کو انہوں نے پالا۔تربیت کی تعلیم دلائی اور ان کی شادیوں کے بھی خرج برادشت کئے۔قدرت الہی کی بات ہے کہ پیدائش سے ہی ان کا نام نصرت جہاں بیگم رکھا گیا اور ان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نکاح میں آنا اللہ تعالیٰ کی ان نصرتوں اور فتوحات کے واسطے ایک فال نیک تھا جو بعد میں حضور کے شامل حال ہوئیں۔یہ خداوند کریم کا آپ پر ایک فضل عظیم تھا جس کو آپ کی زبانی اس شعر میں ظاہر کیا گیا ہے۔چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے میرے جاناں تیرا میں یورپ ، امریکہ کے سفر میں تھا جب کہ ہمیں وہاں اخباروں کے ذریعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایسے سخت بیمار ہو گئے کہ حضور نے مناسب سمجھا کہ اپنی ایک وصیت لکھیں اور اس وصیت میں حضور نے ایک بورڈ بھی بنایا جو آپ کے بعد خلیفہ کا