سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 5 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 5

5 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بسم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم الله الرحمن الرحيم خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ انتساب میں اس قیمتی اور مبارک کتاب کو جو میری زندگی کا مایہ ناز کام ہے اور جس کی برکتوں کو میں نے ایک ملموس حقیقت کی طرح دیکھا اور پایا کسی ایسے بے نفس بزرگ کے نام سے منسوب کرنی چاہتا تھا جس کی محبت اور وفاداری کی روح خود بخوداپنے لئے کوئی مقام بلند تیار کرلے۔چنانچہ میں نے کتاب کی مکمل اشاعت تک انتظار کیا اور خریداران یوسف کے ہر سر مایہ اور پونچی پر نظر ڈالی۔میں نے ان کی رُوح مسابقت اور عشق و محبت کے ہر نشیب و فراز اور وادی کو خوب دیکھا جن کا ذکر بجائے خود لذیذ اور دلچسپ ہے مگر یہاں اس کی گنجائش نہیں۔بہت سے جو محبت کے کوچے میں مجھے آگے نظر آتے تھے بہت پیچھے نظر آئے اور بہت سے تھے جو بہت پیچھے نظر آتے تھے ، مجھے بہت آگے نظر آئے اور ان آگے نظر آنے والوں میں سب سے آگے اور سب کے سالار الحاج حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین آف سکندر آباد نکلے۔جنہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر کتاب پانچ ہزار چھپے گی تو وہ پانچ سو کتاب خرید لیں گے۔نیز یہ بھی وعدہ فرمایا تھا کہ اس کی اشاعت میں ہرقسم کی مالی سہولت مہیا فرما ئیں گے۔حضرت سیٹھ صاحب نے جو کہا اسے پورا فرما دیا۔میری محنت اور کوشش کبھی پروان نہ چڑھتی اگر حضرت سیٹھ صاحب کی یہ معاونت مجھے میسر نہ آتی۔وہ خود، ان کی بیگم صاحبہ، ان کے بچے ، سب اسی رنگ میں رنگین مجھے نظر آئے اس لئے میں ان کی محبت اور وفا کی تجمیل اس کتاب کو حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب مدظلہ العالی کے نام نامی سے منتسب کر نے سے کرتا ہوں۔سیٹھ صاحب کی ذات گرامی ان چیزوں سے بالکل بالا ہے اور ان کا قلب نمود و نمائش سے بالکل خالی۔مگر اللہ تعالیٰ کی بھی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے پاکباز بندوں کے نام اور کام کو دنیا میں زندہ رکھا کرتا ہے اس لئے میرا یہ فعل سنت الہیہ سے باہر نہیں۔