سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 100
100 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ا۔بی بی زینت النساء بیگم صاحبہ جو حضرت خواجہ میر درد کی دوسری بیٹی تھیں وہ شاہ محمد نصیر کی والدہ تھیں اور شاہ محمد نصیر کے نواسہ ناصر امیر تھے جن کے دو بیٹے ہوئے ایک ناصر وزیر اور دوسرے حضرت میر ناصر نواب صاحب جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خسر اور آپ کی اولاد کے نانا ہونے کا فخر حاصل ہوا اور جن کے وجود باجود کے ذریعہ حضرت اُم المؤمنین علیھا السلام کا وجود دنیا میں ظہور پذیر ہوا اور جس کو خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں خُدَيُجَتِی فرمایا اور آپ کو نعمت عظمی قرار دیا جس کی تصریحات اپنے مقام پر آئیں گی۔۲۔خواجہ میر درد کا جو خاندان کہلاتا ہے وہ ان کی بیٹیوں سے ہی چلا ہے کیونکہ خواجہ میر درد کے بیٹے ضیاءالناصر سے کوئی نرینہ اولاد نہیں چلی۔-۲ حضرت ام المؤمنین کے دُدھیال کے خاندان کا جو شجرہ ہم کو دستیاب ہو سکا وہ نواب خان دورانِ خان منصور جنگ سے شروع ہوتا ہے اوپر مورثان اعلیٰ حضرت علاؤالدین عطار نقشبندی ہیں۔۴۔نواب خان دوران منصور جنگ کے ناناعزیز میرزا گوگلتاش تھے جو افواج مغلیہ میں شاہنشاہ اکبر کے زمانہ سے افواج مغلیہ کے کمانڈر انچیف تھے اور ان کو خان زمان کا خطاب بھی تھا اور تاریخ ہند میں ان کے ذکر سے صفحات کے صفحات پر ہیں۔۵۔نواب خان زمان کے چھوٹے بھائی نواب اعظم خان تھے جو خود بھی افواج مغلیہ کے ارکان حرب میں سے تھے اور تاریخ ان کے ذکر کو بھی محفوظ رکھنے پر مجبور ہے۔۔نواب خان دوران کے دو بھائی تھے۔ایک کا نام مظفر خان تھا۔جو صو بہ دار گجرات بھی رہ چکے تھے۔اور بعد میں افسر بارودخانہ مقرر ہو گئے تھے۔ان کے عہدہ کا نام میر آتش تھا۔دوسرے بھائی خواجہ جعفر تھے جو درویشی کے رنگ میں تھے۔تاریخ ہند مصنفہ مولوی ذکاء اللہ صاحب میں ان کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ے۔نواب خان دوران کے زمانہ میں ارکان حرب حسب ذیل تھے۔الف - صمصام الدولہ امیر الامراء نواب خانِ دوران - منصور جنگ بخشی اوّل