سید محموداللہ شاہ — Page 25
25 مشرقی افریقہ میں احمدیت برصغیر سے باہر سب سے پہلے مشرقی افریقہ میں جماعت احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔1890ء کی دہائی میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد سعادت میں وہاں جماعت احمد یہ قائم ہو چکی تھی۔اس زمانے میں کینیا برٹش کالونی تھی۔جہاں ہندوستان سے ہزاروں لوگ ریلوے، میڈیکل ایجوکیشن اور بعض دیگر شعبوں میں کام کرنے کیلئے گورنمنٹ برطانیہ ہند کی طرف سے برٹش کالونی کینیا اور یوگنڈ اوغیرہ بسلسلہ روزگار عازم سفر ہوتے۔انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی رفقاء بھی وہاں خدمات بجا لا رہے تھے۔اطباء میں حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب جو حضرت حافظ روشن علی صاحب کے بھائی تھے۔جو وہیں شہید بھی ہو گئے۔حضرت ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر ،حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب گوڑیانی ، نیز دیگر احباب، جیسے حضرت منشی محمد افضل صاحب ، حضرت شیخ حامد علی صاحب اور کئی دیگر احباب کرام۔بعض احباب تو ہندوستان سے بیعت کر کے وہاں گئے اور بعض دوستوں نے مشرقی افریقہ میں جا کر سیدنا حضرت اقدس علیہ السلام کی بیعت کی سعادت حاصل کی اور آخران بزرگان کی انتھک محنت سے یہاں پر ایک مضبوط جماعت قائم ہوگئی۔بعد ازاں بعض نوجوانوں بالخصوص حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب اور آپ کے بعض ہم عصروں نے جماعتی ترقی کی رفتار کو کئی گنا بڑھا دیا اور مخالفین پر اپنے علم وفضل کی دھاک بٹھادی اور اس کے ساتھ ساتھ غیروں سے رواداری اور حسن سلوک کے بھی اعلیٰ نمونہ قائم فرمائے۔بہر حال اس ملک کے ساتھ تاریخ احمدیت کا قدیمی واسطہ ہے۔