سید محموداللہ شاہ — Page 8
8 اوپر ارشاد حضرت خلیفۃ اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے خلافت کے گہرے ادب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: دو بعض لوگوں کے دیکھنے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ وہ دونوں آنکھوں کے درمیان ماتھے پر اور پر نظر رکھتے ہیں۔ہمارے ایک مرحوم ماموں سید محمود اللہ شاہ صاحب ان کا یہی انداز ہوا کرتا تھا۔حضرت مصلح موعود ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) سے کبھی ملنے آتے تو ہمیشہ اسی طرح دیکھتے تھے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا کوئی سوال نہیں تھا اور دل کی پیاس بھی بجھ جاتی تھی کہ پورا چہرہ غور سے دیکھوں۔چنانچہ ایک دور فعہ میں نے محسوس کیا کہ مجھے بھی اس طرح دیکھ رہے ہیں۔میں نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے آپ کی نگاہیں میرے اوپر ہوتی ہیں مگر ملتی نہیں تو تب انہوں نے یہ راز سمجھایا کہ میں نے اپنے لئے ایک ترکیب بنائی ہوئی ہے کہ ماتھے کے اوپر دو آنکھوں کے درمیان اس جگہ دیکھتا ہوں تو دیکھنے والوں کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ مجھے دیکھ نہیں رہا اور میری نظریں بھی ادب کی وجہ سے آنکھوں میں آنکھیں نہیں ڈالتیں۔تو یہ بھی ایک انداز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ( رفیق) جو عمر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے وقت چھوٹے تھے مگر پھر بھی اتنے چھوٹے نہیں تھے۔کیونکہ میری والدہ (حضرت سیدہ اُم طاہر جو ۱۹۰۵ء میں پیدا ہوئیں ) سے عمر میں بڑے تھے اور میری والدہ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کے بچے (صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم) سے شادی ہوئی۔پس اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ( رفقاء ) ہی کا رنگ ہے جو حضرت صاحب نے بیان فرمایا ہے“۔خطبه جمعه از الفضل ربوه ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۸ صفحه ۴)