سید محموداللہ شاہ — Page 157
157 سوٹ کیس واپس آ جائے گا ایک دفعہ کیا ہوا کہ ہم والد صاحب کے ہاں گئے ہوئے تھے۔شاہ صاحب کا سوٹ کیس تھا چھڑے کا بنا ہوا۔اس کی مرمت کروانی تھی۔شاہ صاحب ایک آدمی کے پاس مرمت کروانے کے لئے گئے۔اس آدمی نے کہا کہ یہ سوٹ کیس میں گھر لے جاتا ہوں کل لے کر آؤں گا۔شاہ صاحب گھر آگئے۔میں نے کہا سوٹ کیس کدھر ہے کہنے لگے وہ ایک آدمی کو دے آیا ہوں اس نے کہا تھا کہ میں گھر جا کر مرمت کر کے کل لے آؤں گا۔اب وہ آدمی کہاں آتا تھا میں نے کہا شاہ صاحب اتنا اچھا بنا ہوا تھا وہ اب کہاں واپس آئے گا۔شاہ صاحب کہنے لگے نہیں میں نے دعا کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ سوٹ کیس واپس آ جائے گا۔ابا جان بھی کہنے لگے کہ وہ اب کہاں واپس آئے گا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ سوٹ کیس واپس آ گیا۔جب سوٹ کیس واپس آیا تو ابا جان نے خط لکھا کہ میرا ایک دوست ہے پولیس افسر میں اس سے یہ بات کر رہا تھا کہ سوٹ کیس اس طرح گم ہو گیا ہے کہنے لگا کم از کم اس کا پتہ تو لے لیتے۔خیر اچھا میں کوشش کروں گا تو دوسرے دن وہ پولیس والا ہی سوٹ کیس لے آیا اس نے بتایا کہ میرے گھر کے باہر گلی میں کوئی کہتا جارہا تھا کہ لے لوسوٹ کیس لے لو۔تو مجھے آپ کی بات یاد تھی میں نے وہ سوٹ کیس لے لیا اور اس کے اوپر شاہ صاحب کا نام لکھا ہوا تھا انگریزی میں ابا اتنے حیران ہوئے کہ انہوں نے شاہ صاحب کو لکھا کہ آپ کی دعا تو واقعی کمال کی ہے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یوں اس آدمی سے سوٹ کیس مل جائے گا۔اور ویسے بھی شاہ صاحب کی خواہیں بڑی بچی ہوا کرتی تھیں انہوں نے بعض اپنے الہامات بھی مجھے بتائے تھے لیکن عموماً کسی کو اس طرح کی باتیں بتایا نہیں کرتے تھے۔ایک دفعہ نیروبی میں ایک احمدی کو کسی نے مار ڈالا تھا۔اسی رات جب صبح شاہ صاحب نیند سے جاگے تو کہنے لگے کہ ہمارا احمدی بھائی مارا گیا ہے۔کہنے لگے نام تو نہیں معلوم لیکن فلاں گاؤں میں احمدی مارا گیا ہے۔بہر حال آپ کی خواہیں بچی ہوتی تھیں۔