سید محموداللہ شاہ — Page 155
155 پڑھتے جاتے اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سنتے جاتے۔میں نے کہا شاہ صاحب پڑھانے کا یہ کونسا طریقہ ہے۔شاہ صاحب کہنے لگے چلو رہنے دو کوئی بات نہیں۔تمہیں کیا علم ہے کہ انہوں نے کس کس کا علاج کرتا ہے۔جب حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوا تو میں نے انہیں یہ بات لکھ کر بھیجی تھی کہ شاہ صاحب مجھے یہ کہا کرتے تھے تمہیں کیا پتہ یہ کس کس کا علاج کرے گا۔ایک دفعہ دوسرے بھانجوں بھانجیوں نے شکوہ کیا کہ آپ ان سے زیادہ کیوں پیار کرتے ہیں تو شاہ صاحب کہنے لگے نہیں میں تو سب سے پیار کرتا ہوں لیکن وہ میری بہت پیاری بہن کا بیٹا ہے۔حسینی سادات ایک دفعہ میں نے حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب سے دریافت کیا ، کیا آپ حسنی سید ہیں یا حسینی؟ اس پر آپ نے جواب دیا کہ میں نے والد ماجد ( حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب اللہ آپ سے راضی ہو) سے سنا ہے کہ ہم حسینی سید ہیں۔پھر خود ہی انہوں نے ( حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ) ذکر کیا کہ ان کے والد صاحب (سید باغ حسن شاہ صاحب) نے ایک دفعہ خواب دیکھا عین جوانی کی حالت میں کہ ایک لشکر نے پڑاؤ ڈالا ہوا ہے۔سپاہی ادھر اُدھر پھر رہے ہیں اور میں کھڑا ہوں ایک طرف دیکھ رہا ہوں۔درمیان میں ایک بہت بڑا خیمہ نظر آتا ہے۔جس میں خوب روشنی ہے۔اور وہ روشنی چھن چھن کر خیمہ سے باہر آ رہی ہے۔اتنے میں میرے والد صاحب (حضرت سید باغ حسن شاہ صاحب والد صاحب حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب نظر آتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تمہیں تلاش کر رہا تھا۔آؤ چلو میں تم کو خیمہ میں لے جانے کے لئے تلاش کر رہا تھا۔آؤ چلو میں تم کو خیمہ میں لے جاؤں۔جہاں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور خیمہ کی طرف چل دیئے۔خیمہ کا پردہ ہٹا تو اس قدر روشنی تھی کہ آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔اور میری آنکھ کھل گئی۔