سوشل میڈیا (Social Media) — Page 93
کرنا چاہئے۔تصویر آپ نے اس لئے کھنچوائی تھی کہ دور دراز کے لوگ اور خاص طور پر یورپین لوگ جو چہرہ شناس ہوتے ہیں وہ آپ کی تصویر دیکھ کر سچائی کی تلاش کریں گے، اس کی جستجو کریں گے لیکن جب آپ نے دیکھا کہ لوگ کارڈ پر تصویر شائع کر کے یہ کاروبار کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں یا کہیں بنانہ لیں اور جب آپ نے محسوس کیا کہ اس سے بدعت نہ پھیلنی شروع ہو جائے ، یہ بدعت پھیلنے کا ذریعہ نہ بن جائے تو آپ نے سختی سے اس کو روک دیا بلکہ بعض جگہ آپ نے فرمایا کہ ان کو ضائع کروادیا جائے۔پس وہ بعض لوگ جو تصویروں کا کاروبار کرتے ہیں، جنہوں نے تصویروں کو کاروبار کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور بے انتہا قیمتیں اس کی وصول کرتے ہیں ان کو توجہ کرنی چاہئے۔پھر بعض ایسے بھی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر میں بعض رنگ بھر دیتے ہیں حالانکہ کوئی coloured تصویر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نہیں ہے۔یہ بھی بالکل غلط چیز ہے اس سے بھی احتیاط کرنی چاہئے۔اسی طرح خلفاء کی تصویروں کے غلط استعمال ہیں ان سے بھی بچنا چاہئے۔ایک دفعہ سنیما اور بائی سکوپ کے بارہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک شوری میں بحث چل گئی تو اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ کہنا کہ سنیما یا ہائی سکوپ یا فونوگراف اپنی ذات میں برا ہے، صحیح نہیں۔فونوگراف خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سنا ہے بلکہ اس کے لئے آپ نے خود ایک نظم لکھی اور پڑھوائی اور پھر یہاں کے ہندوؤں کو بلوا کر وہ نظم سنائی۔یہ وہ نظم ہے 93