سرّالخلافة — Page 223
سر الخلافة ۲۲۳ اردو تر جمه اس لئے رسالہ بالمقابل لکھنے سے پہلو تہی کیا گیا نہایت مکارانہ غذر ہے۔گویا ایک بہانہ ڈھونڈھا ہے کہ کسی طرح جان بچ جائے لیکن دانا سمجھتے ہیں کہ یہ بہانہ نہایت کچا اور فضول اور ایک شرمناک کارستانی ہے کیونکہ ہم نے تو لکھ دیا ہے کہ صرف پادری لوگ اور بے دین آدمی اس کے مقابلہ سے عاجز رہ سکتے ہیں سچے مسلمان عاجز نہیں ہیں۔پس اگر شیخ صاحب بالمقابل رسالہ پیش کرتے تو پادریوں کی اور بھی ذلت ہوتی اور لوگ کہتے کہ مسلمانوں نے ہی یہ رسالہ بنایا تھا اور مسلمانوں نے ہی اس کے مقابل پر ایک اور رسالہ بنا دیا مگر پادریوں سے کچھ نہ ہوسکا۔ماسوا اس کے تین ہزار روپیا انعام پاتے الہام کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیتے اور قوم میں عزت حاصل کر لیتے۔اور بعض ان کے پرانے دوست جو کہہ رہے ہیں کہ بس معلوم ہوا جو محمد حسین اردو دان ہے عربی نہیں جانتا یہ تمام شک ان کے دور ہو جاتے۔مگر اب جو وہ مقابلہ سے دستکش ہو گئے تو آئندہ حیا سے بہت بعید ہو گا کہ اس جماعت کا نام منشی رکھیں اور خود ان امور سے گریز کریں جو مولویت کے منصب کے لئے شرط ضروری ہیں۔ان لوگوں کا عجیب اعتقاد ہے جواب بھی ان لوگوں کو عربی دان ہی سمجھ رہے ہیں اور مولوی کر کے پکارتے ہیں نہایت خیر خواہی کی راہ سے پھر میں آخری دعوت کرتا ہوں اور پہلے رسالوں کے مقابلہ سے نومید ہو کر رسالہ سرالخلافہ کی طرف شیخ صاحب کو بلاتا ہوں۔آپ کے لئے ستائیس دن کی میعاد اور ستائیس روپیہ نقد کا انعام مقرر کیا گیا ہے اور میں اس پر راضی ہوں کہ یہ روپیہ آپ ہی کے سپرد کروں اگر آپ طلب کریں اور ہم نہ بھیجیں تو ہم کا ذب ہیں۔ہم پہلے ہی یہ روپیہ بھیج سکتے ہیں مگر آپ اقرار شائع کر دیں کہ میں ستائیس دن میں رسالہ بالمقابل شائع کر دوں گا۔اگر آپ اس مدت میں شائع کر دیں تو آپ نے نہ صرف ستائیس رو پید انعام پایا بلکہ ہم عام طور پر شائع کر دیں گے کہ ہم نے اتنی مدت جو آپ کو شیخ شیخ کرکے (۸۴) پکارا اور مولوی محمد حسین نہ کہا یہ ہماری سخت غلطی تھی بلکہ آپ تو فی الواقع بڑے فاضل اور ادیب ہیں اور اس لائق ہیں کہ جو حدیث کے آپ معنے سمجھیں وہی قبول کئے جائیں۔