سرّالخلافة — Page 171
سر الخلافة اردو تر جمه ويسبون خير البشر في اور مخالفین ) حضرت خیر البشر عے کوکو چوں اور السكك والأسواق، وماتت بازاروں میں گالیاں دیتے ہیں اور ملت مرنے کو الملة والتفت الساق بالساق، ہے۔جان کنی کا عالم ہے اور جدائی کی گھڑی آن وجاء وقت الفراق، فارحموا پہنچی ہے۔پس اس دین پر رحم کھاؤ جو بے آبرو ہو الدين المهان، فإنه يرحل الآن۔چکا ہے کیونکہ وہ اب کوچ کرنے کو ہے۔میں تمہیں و نشدتكم الله۔ألا ترون هذه الله کی قسم دیتا ہوں، کیا تم یہ بگاڑ (اپنی) آنکھوں المفاسد بالعين؟ ألا يترك سے نہیں دیکھ رہے۔کیا ایمان کا شیریں چشمہ مال و عين زلال الإيمان للعين؟ زر کی خاطر ترک نہیں کیا جا رہا؟ خدا کے لئے گواہی اشهدوا الله اشهدوا۔أحق هذا دو، ہاں گواہی دو کہ کیا یہ سچ ہے یا جھوٹ ؟ اور ہمیں أو من المين؟ وما زاوَلْنا أَشدَّ عیسائیوں کی سازشوں سے زیادہ کسی سے واسطہ من كيد النصارى، وإنا فی نہیں پڑا اور ہم اُن کے ہاتھوں میں اسیروں کی أيديهم كالأسارى۔إذا أرادوا طرح ہیں۔جب وہ فریب دہی کا ارادہ کر لیں التلبيس، فيخجلون ابلیس تو ابلیس کو بھی شرمندہ کر دیتے ہیں مصیبت ظاہر ہوگئی ظهر البأس، وحصحص اليأس اور نا امیدی کھل کر سامنے آ گئی اور لوگوں کے دل وقست قلوب الناس، واتبعوا سخت ہو گئے۔اور انہوں نے وسوسہ ڈالنے والے وساوس الوسواس۔وبعدوا عن شیطان کے وسوسوں کی پیروی کی۔اور تقویٰ اور التقوى، وخوف الله الأعلى، بل خدائے بزرگ و برتر کے خوف سے دور جاپڑے بلکہ عادوا هذا النمط، وضاهَوا وہ اس نیک روش کے دشمن ہو گئے اور گری پڑی السقط۔وقلتُ قليلا مما رأيتُ ناکارہ چیز کی طرح ہو گئے۔میں نے جو دیکھا اُس وما استقصيت۔ووالله ان میں سے تھوڑا بیان کیا اور اس کی تفصیل میں انتہا تک الــمــصــائـب بلغت منتهاها، نہیں گیا۔اور بخدا، مصائب اپنی انتہا کو پہنچ گئے۔