سلسلہ احمدیہ — Page 742
742 اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی روحانی عظیم الشان تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔“ حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ دعا ایک ایسا اعجاز ہے جو ہر احمدی کو عطا ہوا ہے۔اس میں صرف خلیفہ وقت کا امتیاز نہیں۔یہ وہ اعجاز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زمانے کا ایمان زندہ کرنے کیلئے ہمیں عطا کیا ہے اور یہی معنی ہیں اس بات کے کہ لو كَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالقُرَيَالَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِّنْ هُو لا ( بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر 4518) که اگر ایمان ثریا تک بھی چلا گیا یعنی زمین کلیہ چھوڑ گیا تب بھی ان لوگوں میں سے وہ ایک شخص پیدا ہو گا یا بعض اشخاص پیدا ہوں گے جو ثریا سے ایمان کو کھینچ لائیں گے۔پس دعاؤں کے نتیجے میں ہی ایمان شریا سے اترا کرتے ہیں اور یہ کام ایک شخص کا نہیں بلکہ رجال کا ہے اور میرے نزدیک رجال سے مراد جماعت احمدیہ کے رجال ہیں اور وہ سارے خدا پرست لوگ، خدا رسیدہ لوگ، خدائما لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق باندھتے ہیں اور سچا اخلاص کا تعلق باندھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو یہ اعجاز عطا کرتا ہے کہ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اپنے فضل کے ساتھ ان دعاؤں کے طفیل وہ دنیا میں آسمان پر گئے ہوئے ایمان کو واپس کھینچ لاتے ہیں۔پس ان قوموں کو آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔صرف بحث و تشخیص کی ضرورت نہیں ہے۔اور دعاؤں کی ضرورت سے یہ مراد نہیں کہ اپنے ہونٹوں سے سرسری دعائیں کریں یا الگ بیٹھ کر دعائیں کریں خواہ دل کی گہرائی سے دعائیں ہوں۔بلکہ وہ دعائیں کریں جن کا میں نے ذکر کیا ہے جو خدا کے پایہ قبولیت میں جگہ پاتی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نشان بنا دیا کرتا ہے۔ایسی دعائیں ان قوموں کے حالات بدل سکتی ہیں اور اس کے بغیر نہیں۔“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ وہ ہتھیار ہے جس کو آج آپ کو سب سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے اور یہ ہتھیار ہر شخص کے قبضہ قدرت میں ہے۔اگر وہ اسے لینا چاہے اور اپنانا چاہے۔اور اگر نہ اپنانا چاہے تو کسی کے ہاتھ میں نہیں آسکتا۔اس لئے آپ بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس نئے نسخہ کو آزمائیں، اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کریں اور خود خد الما بن جائیں۔ایسی دعائیں کریں جو خدا