سلسلہ احمدیہ — Page 682
682 2002ء کے جلسہ سالانہ بیٹن ( مغربی افریقہ منعقدہ 21 تا 23 دسمبر میں قریباً ایک سو بادشاہ شامل ہوئے جن میں کنگ آف پارا کو کی سربراہی میں ملک کے بڑے بادشاہوں کا تیس رکنی وفد گھوڑوں پر سوار ہو کر آیا۔اسی طرح نائیجر کے سب سے بڑے بادشاہ سلطان آف آگادیس کا بارہ رکنی وفد اڑھائی ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے جلسہ میں شامل ہوا۔پاکستان میں حکومت نے 1984ء سے احمدیوں کو جلسہ سالانہ کے انعقاد کی اجازت نہیں دی۔اور نہ صرف سالانہ جلسے پر پابندی عائد کی بلکہ دیگر اجتماعات پر بھی قدغنیں لگائی گئیں۔دشمن نے ہمارے مرکزی جلسم پر پابندی عائد کر کے جماعت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی سکیم سو چی تھی کیونکہ جیسا کہ حضرت خلیفہ ایسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا تھا : کرتے ہیں۔تمام سالانہ جلسے جماعت کو آپس میں محبت میں باندھنے میں غیر معمولی کردار ادا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو پہلے جلسے کی اغراض بیان فرمائی تھیں ان میں سے ایک یہ اہم غرض تھی کہ ان جلسوں کے ذریعے مختلف جگہوں کے احمدی آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے، اس طرح مورت یعنی محبت کا رشتہ قائم ہو گا، ایک دوسرے کو سمجھیں گے، ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں گے اور اس طرح ایک عالمی برادری وجود میں آنے لگے گی۔پس یہ ضروری ہے کہ ہر ملک میں اسی طرح کے جلسے انہی فوائد کو لئے ہوئے جماعت کے سامنے بار بار آتے رہیں اور اس طرح ایک ملکی سطح پر جب باہمی محبت کے رشتے بنیں گے تو ان ملکوں میں جو باہر سے لوگ جاتے ہیں وہ بھی ایک عالمی برادری کا احساس پیدا کرنے میں مزید محمد ثابت ہوں گے اور ہوتے ہیں۔افریقہ کے ممالک میں جب جلسے ہوتے ہیں تو افریقہ کے ارد گرد کے ممالک سے کچھ نمائندے پہنچتے ہیں۔جب امریکہ میں جلسے ہوتے ہیں تو وہاں سے ارد گرد کے ممالک سے شامل ہونے والے احمدی پہنچتے ہیں۔اگر چہ فاصلے وہاں بہت زیادہ ہیں مگر پھر بھی کوئی نہ کوئی دکھائی دے ہی دیتا ہے۔کوئی سرینام کا نمائندہ مل جاتا ہے۔کوئی گیانا کا نمائندہ بھی مل جاتا ہے۔کوئی ٹرینیڈاڈ کا نمائندہ بھی مل جاتا ہے۔۔۔پس اس پہلو سے جماعت کا دائرہ موڈت،