سلسلہ احمدیہ — Page 40
40 آرڈیننس کے خلاف جماعت کا رد عمل اور اللہ تعالیٰ کا سلوک جیسا کہ پہلے ذکر گزر چکا ہے 26 اپریل 1984ء کو پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کی طرف سے جاری ہونے والا نہایت ظالمانہ اور رسوائے زمانہ آرڈینینس 20 جماعت احمدیہ کی اساس اور مرکزیت پر ایک نہایت خوفناک اور شدید حملہ تھا۔امر واقعہ یہ ہے کہ احمدیت تو حقیقی اسلام کا ہی دوسرا نام ہے۔اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو جماعت احمدیہ کے خلاف اس آرڈینس کا اجراء اسلام کی بنیادوں پر حملے اور اسلام کے شجرہ طیبہ کی جڑوں پر تیر چلانے کے مترادف تھا اور ہے۔(ستم بالائے ستم یہ کہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر کیا گیا اور اس آرڈینینس کو نفاذ اسلام کی مہم کے طور پر پیش کیا گیا) جنرل ضیاء اور اس کے ہمنوا ملاؤں اور سیاستدانوں کا خیال ہوگا کہ ان ظالمانہ قوانین سے مرعوب ہو کر احمدی اسلام سے اپنا تعلق توڑلیں گے۔وہ خدا تعالیٰ کی توحید اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اقرار سے باز آجائیں گے۔وہ قرآن کریم کی تلاوت اور قرآنی احکامات کی اطاعت چھوڑ دیں گے۔وہ اس آرڈنینس کے نتیجہ میں ہونے والے مظالم کو برداشت نہیں کرسکیں گے اور اسلامی تعلیمات پر عمل اور اسلامی اخلاق و اقدار سے عاری ہو جائیں گے۔یا ان کی اپنے امام اور خلیفہ سے وابستگی کمزور پڑ جائے گی اور یوں یہ جماعت منتشر ہو کرنابود ہو جائے گی۔لیکن 26 را پریل 1984ء کے بعد کا ہر دن اور ہر لمحہ اس بات پر گواہ ہے کہ اس نہایت ظالمانہ قانون کی موجودگی میں اور ہر طرح کے حکومتی اور حکومت کی سر پرستی میں ہونے والے ظلم و تشدد کے باوجود معاندین احمدیت کو اپنے تمام مذموم مقاصد اور بد ارادوں میں سخت ہزیمت اٹھانا پڑی۔اور خلافت حقہ اسلامیہ کے زیر سیادت افراد جماعت احمدیہ پاکستان نے اسلام اور ارکانِ اسلام کی عزت و توقیر اور شعائر اسلام کی عظمت کی حفاظت کے لئے بڑی جرات و بہادری اور بشاشت اور خندہ پیشانی کے ساتھ ایسی قابل رشک قربانیاں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جنہوں نے اسلام کے دور اول میں صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ کردی۔اس ظالمانہ قانون کے حوالہ سے ہزار ہا احمدیوں کو شدید ذہنی و جسمانی، ہا قلبی و روحانی اذیتیں دی گئیں۔انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا گیا۔گلیوں میں گھسیٹا گیا، ان