سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 592 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 592

592 سے بابرکت فرمائے اور جماعت احمدیہ کے لئے بالعموم بہت بابرکت فرمائے اور خصوصاً دعوت الی اللہ کے میدان میں جماعت کی کوششوں کو غیر معمولی پھل لگائے اور دائمی پھل لگائے اور آگے پھر پھولنے پھلنے والے صبح عطا کرتا رہے۔بہر حال ایک تو جماعت کو مبارک باد دینا مقصود تھی اور ایک گل حالم کے مسلمانوں کو خواہ ان کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہو یا نہ ہوئیں دل کی گہرائی سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اسی طرح تمام انسانیت کے لئے میرے دل میں فلاح و بہبود کے جو جذبات ہیں اور جو نیک خواہشات ان سے وابستہ رکھتا ہوں اس پہلو سے تمام دنیا کے انسانوں کو خواہ ان کا کوئی بھی مذہب ہو، کوئی بھی رنگ ہو، کسی بھی قوم سے تعلق رکھتے ہوں، کسی مذہب کے ماننے والے ہوں، میں دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی مبارکباد پیش کرتا ہوں جو تمام جماعت احمدیہ کی طرف سے ہے۔صرف میری طرف سے ہی نہیں۔میں نے مبارکباد کے اس مضمون پر جہاں تک غور کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس بھری دنیا میں جہاں اربوں لوگ آباد ہیں سب سے زیادہ احمدی دل ہیں جو حقیقت میں بنی نوع انسان کے بہی خواہ ہیں اور واقعۂ دل کی گہرائی سے ان کی خیر چاہتے ہیں ورنہ اکثر لوگ تو اپنے محدود دائروں سے وابستہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ایک مسلمان زیادہ سے زیادہ سوچے گا تو اسلام کی بہبود کی سوچتا ہے یا ایک پاکستانی پاکستان کی بہبود کی سوچتا ہے۔انگلستان میں بسنے والا ایک انگریز انگلستان کی بہبود کی سوچتا ہے اور شاید ہی کوئی دل ایسا ہو جس کی گہرائی سے گل عالم اسلام کی خیر خواہی کی دعائیں اٹھتی ہوں۔اور جہاں تک میراعلم ہے تمام احمدی جو تمام دنیا میں، مشرق و مغرب میں تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے ہیں انہوں نے اپنا دستور بنا رکھا ہے کہ وہ نظام جماعت کے لئے یا خلیفہ وقت کے لئے ، اپنے عزیزوں اور پیاروں کے لئے جہاں دعا کرتے ہیں وہاں انسانیت کو بحیثیت انسانیت پیش نظر رکھتے ہوئے گل عالم کے انسانوں کے لئے ضرور دعا کرتے ہیں۔یہ میرا ایک جائزہ ہے جو مختلف احمدیوں کے خطوط سے مترتب ہوتا ہے اور ویسے بھی اپنے دل کی کیفیت سے میں یہی اندازہ کرتا ہوں کیونکہ میرے اور جماعت کے دل کے دھڑ کنے کے انداز ایک ہیں۔ایک ہی صحیح پر ہم سوچتے ہیں۔ایک ہی طرز پر محسوس کرتے ہیں۔اس لئے جو میری کیفیات ہیں وہ سب جماعت کی ہوں گی اور ایسا ہے بھی۔کیونکہ خط لکھنے والے تو کم ہیں جو