سلسلہ احمدیہ — Page 437
437 اس سال جماعت پر فضل کثرت سے نازل فرمائے ہیں اور بعض ایسے ممالک میں جماعت کو ازسرنو زندہ کیا ہے جہاں ہمارا کوئی اختیار نہیں تھا۔میں نے اس مباہلہ کی دعا میں یہ بھی کہا تھا کہ تم دیکھو گے اگر تم زندہ رہو گے۔میں نے منظور چنیوٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تم زندہ رہے تو دیکھو گے کہ جماعت مرنے کی بجائے بعض ملکوں میں از سر نو زندہ ہو جائے گی۔چنانچہ چین ایک ایسا ملک ہے جہاں خدا کے فضل سے پچھلے چند دنوں میں از سر کو جماعت زندہ ہوتی ہے اور نہ صرف یہ کہ چین میں کئی جگہ جماعت قائم ہوتی ہے بلکہ چین سے باہر جو بعض علماء نکلے تھے انہوں نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا اور مجھے ان کے خط موصول ہوئے ہیں کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم واپس جائیں گے تو احمدیت کا بڑے زور سے پر چار کریں گے اور وہ اپنے علاقوں کے بڑے لوگ ہیں۔عجیب اتفاق ہے اور یہ اتفاق نہیں ، خدا کی تقدیر ہے کہ ہمارے عثمان چینی صاحب کے خسر چند دن ہوئے چین سے آئے وہ اپنے علاقے کے بڑے عالم ہیں اور اسمبلی کے ممبر ہیں وہاں کی پراونشل اسمبلی کے اور جماعت کے بڑے سخت مخالف۔ان کی بیٹی مخلص احمدی ہو گئی لیکن خود مخالف۔جب یہاں تشریف لائے تو بیٹی تنگ آگئی تھی ان کی مخالفت سے۔میرے پاس آکے رونے والی ہو گئی۔باپ کو ساتھ لے کے آئی کہ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا میں کروں کیا؟ آپ میرے لئے خدا کے لئے دعا کریں میں تو بہت پریشانی میں مبتلا ہوگئی ہوں۔میں سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں بات ان کے پلتے ہی نہیں پڑتی۔ان کو میں نے کچھ سمجھایا، کچھ دعا کی اور عثمان چینی صاحب کو بھی بلالیا کہ بقیہ کسر وہ پوری کریں۔چنانچہ عجیب اتفاق، میں اسے اتفاق کہہ دیتا ہوں مگر اس کو کہنا چاہئے خدا کی تقدیر ہے۔ایک دوست ان دنوں میں میرے پاس تشریف لائے۔لاہور سے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ایک خواب دیکھی ہے کہ علماء بعض آپ کے پاس آرہے ہیں دوسرے ملکوں کے بڑے دور دور سے اور غالباً چین کا بھی اس کا ذکر تھا۔۔۔۔اور وہ ایسے علماء ہیں جو اپنے علاقے پر بڑا اثر رکھتے ہیں اور آپ کے پاس چند دن ٹھہر کے احمدیت قبول کر کے واپس چلے جاتے ہیں اور ان علاقوں میں پھر آگے احمدیت کے چرچے چل پڑتے ہیں۔تو میں نے ان کو کہا کہ ایک عالم تو آج کل یہاں پہنچا ہوا ہے۔اب دیکھیں۔چنانچہ جانے سے پہلے اللہ تعالی کے