سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 424 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 424

424 لیکن ان کی حیثیت ایک وقتی ہے، ایک عارضی حیثیت ہے۔وہ آتی ہیں دل پر نیک اثر چھوڑ کر چلی جایا کرتی ہیں۔لیکن نیکیوں کو خدا تعالیٰ قرآن کریم میں ہمیشہ البقيت الصلحت (الکہف (47) کے طور پر پیش فرماتا ہے۔جو نیکیاں آپ نے اختیار کر لیں وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے نہ صرف آپ کے وجود کو سنوار گئیں بلکہ آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہونی شروع ہو جائیں گی اور اگر نسلاً بعد نسل کسی قوم کو نیکیاں اختیار کرنے کی منتقل ہو توفیق ملے تو وہ عادتوں کا حصہ بن جایا کرتی ہیں اور پھر وہی ہیں جو enetic Symbols اس میں مل جاتی ہیں اور خدا نے جو نظام وراثت کا قانون بدن کے اندر جاری فرمایا ہے اس نظامِ وراثت کا حصہ بن جایا کرتی ہیں۔اس لئے اس سال کی نیکیوں کو اس سال کے آخر پر بھلانا نیکی نہیں ہے بلکہ سارے ماحصل کو ضائع کرنے والی بات ہے۔آپ یہ کوشش کریں کہ ان نیکیوں کو جن کو آپ نے اختیار کیا ہے نہ صرف ان کو صبر کے ساتھ پکڑ کر بیٹھیں اور ہر گز ضائع نہ ہونے دیں بلکہ ان نیکیوں کا ایک اور فائدہ اٹھائیں کیونکہ کہا جاتا ہے اور تجربہ یہی ہے اور قرآن کریم کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نیکیاں دوسری نیکیوں کو پیدا بھی کرتی ہیں۔۔۔۔آپ کے خون میں نیکیاں آجانی چاہئیں۔وہ نیکیاں جو ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ کے خاندانوں کا حصہ اور طرہ امتیاز بن جائیں۔وہ احمدیت کا نشان بن جائیں اور امتیازی شان احمدیت ان نیکیوں کے ذریعے دنیا میں ظاہر ہونے لگے۔یہی میری دعا تھی، اس دعا کو خدا نے بڑی شان کے ساتھ ، بڑے وسیع پیمانے پر قبول فرمایا ہے۔لیکن ابھی بہت سفر باقی ہے اور ابھی بہت سی کمزوریاں ایسی ہیں جنہیں ہمیں گرانا ہے اپنے وجود سے اور بہت سی نیکیاں ہیں جنہیں داخل کرنا ہے اور سینے کے ساتھ لگانا ہے اس لئے میں جماعت سے اپیل کرتا ہوں کہ اس مباہلہ کے سال کی برکتوں کو دائمی کرنے کی کوشش کریں۔اس عرصے میں خصوصاً ان علاقوں میں جو ہماری مخالفت میں پیش پیش رہے ہیں اور ان علماء کے دائروں میں جہاں احمدیت پر بے حد گند اچھالے گئے، جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب میں ہر حد اعتدال سے تجاوز کیا گیا اور انتہائی بے باکی سے آپ پر ناپاک حملے کئے گئے۔اتنی بدیاں پھیلی ہیں اس عرصے میں، اتنی بدامنی ہوئی ہے، اتنے فساد بڑھے ہیں، اس طرح گھر گھر کا بگلی گلی کا امن اٹھ گیا ہے کہ جو پاکستان جاتا ہے وہ اس بات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور خوفزدہ ہو کر واپس آتا ہے۔بعض **