سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 314 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 314

314 تدبر اور بصیرت کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکے گا۔یہ خطبات متلاشیان حق کے لئے مینارہ نور ہیں۔اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت آغاز اسلام سے لے کر آج تک اسلام اور عالم اسلام کو دشمنوں سے اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا خود بعض سادہ لوح مسلمان علماء کے ہاتھوں پہنچا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ دشمنان اسلام نے بھی اکثر اوقات ان سادہ لوح علماء کے جاہلانہ فتووں کو ہی بنیاد بنا کر اسلام پر حملے کئے ہیں۔علماء میں یہ غلط رجحان اس لیے پیدا ہوا کہ انہوں نے اپنے سیاسی اور تمدنی ماحول سے متاثر ہو کر اسلام کے بعض احکامات کی ایسی تشریحات کو جو سیاسی رنگ لیے ہوئے تھیں ترجیح دی اور قرآن کریم کی واضح تعلیمات اور آنحضرت لم کے اسوہ حسنہ کو پس پشت ڈال دیا۔قتل مرتد کا عقیدہ بھی ان غلط رجحانات اور بے بنیاد نظریات میں سے ایک ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس خوفناک عقیدہ کی کوئی بنیاد نہ تو قرآن کریم میں ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی سنت طیبہ میں، بلکہ یہ محض ایک سیاسی نظریہ تھا جسے عباسی خلفاء اور دوسرے حکام نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بعض متعصب علماء کی مدد سے اختراع کیا یہاں تک کہ اس دور کے دوسرے غیر متعصب علماء بھی اس سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔اور بدقسمتی سے بعد میں آنے والے علماء کی اکثریت نے، جو انہی سابقہ علماء کے مکاتب فکر کے زیر سایہ پروان چڑھی تھی، اس نہایت خطرناک غیر اسلامی نظریہ کو بغیر کسی تحقیق اور تنقید کے قبول کرلیا۔اس ناپاک عقیدہ کے نہایت خوفناک نتائج نکلے۔یہاں تک کہ علماء اسلام کو محض معمولی اختلافات پر خود علمائے اسلام نے مرتد قرار دیا اور حکام اور صاحب نفوذ علماء نے اس ہتھیار کو اپنے مخالفین کے خلاف خوب خوب استعمال کیا۔تاریخ اسلام کے یہ نہایت دردناک ابواب سپین میں عیسائی حکومتوں کی یاد دلاتے ہیں جب اسی قسم کے نظریات کے قائل عیسائیوں نے خود اپنے عیسائی بھائیوں کو معمولی اختلافات پر نہایت وحشت ناک سزائیں دیں۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس کتاب میں اُس تاریک دور کے واقعات کی تفصیل میں