سلسلہ احمدیہ — Page iii
بسم الله الرحمن الرحيم محمدة وتصلى على رسوله الكريم وعلى عبدة المسيح الموعود تعارف 1939ء کا سال جماعت احمدیہ میں خلافت ثانیہ کی سلور جوبلی کے طور پر منایا گیا۔یہ وہ سال تھا جس میں جماعت کے قیام پر پچاس سال مکمل ہوئے۔چنانچہ اس مناسبت سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے جماعت کی پچاس سالہ تاریخ پر ایک کتاب مسلسلہ احمدیہ کے نام سے تحریر فرمائی جس میں تاریخ کے علاوہ سلسلہ کے عقائد، اس کے قیام کی غرض و غایت نیز جماعتی نظام اور احمدیت کے مستقبل پر مختصر مگر نہایت ہی جامع بحث تحریر فرمائی۔اس کتاب کا مقصد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ تحریر فرمایا کہ من اصحاب کے کام آسکے جو سلسلہ احمدیہ کے متعلق علمی بحثوں میں پڑنے کے بغیر اس کے متعلق عام مگر مستند معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس بات کو سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ کیا ہے اور کس غرض وغایت کے ماتحت قائم ہوا ہے اور اس کے مستقبل کے متعلق کیا کیا امیدیں وابستہ ہیں۔“ رض اس کتاب کی اشاعت کے بعد یہ سلسلہ جاری ہ رہ سکا یہاں تک کہ 2008ء میں خلافت احمدیہ کی صد سالہ جوبلی کے موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ سلسلہ احمدیہ کی طرز پر 1939ء کے بعد کی جماعتی ترقیات، مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کی سرگرمیاں، قرآن مجید کی اشاعت و دیگر اہم جماعتی واقعات پر مختصر تاریخ مرتب کی جائے۔چنانچہ بعد منظوری حضور انور ایدہ اللہ تعالی مکرم ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب نے سلسلہ احمدیہ جلد دوم تحریر فرمائی جس میں خلافت ثانیہ کے بقیہ دور یعنی 1939 ء سے لے کر 1965ء تک پیش آنے والے اہم حالات و واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کے بعد مکرم ڈاکٹر صاحب موصوف نے ہی خلافت ثالثہ (1965ء تا 1982ء) میں پیش آمدہ بعض حالات و واقعات کو سلسلہ احمدیہ جلد سوم میں مرتب فرمایا۔