سلسلہ احمدیہ — Page 188
188 طرف اور چار میل ایک طرف۔آسٹریلیا کے ماتحت تھا، 1968ء میں آزاد ہوا۔آبادی آٹھ ہزار ایک سو ہے، زبان انگریزی اور NAURUAN ہے۔مذہب عیسائیت ہے جن میں سے 66 فیصد پراٹسٹنٹ ہیں۔جون 1987ء میں مکرم افتخار احمد ایاز صاحب آنریری مبلغ طوالو نے ایک مقامی داعی الی اللہ کو تبلیغ کے لئے Nauru بھجوایا۔چنانچہ ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں ایک دوست بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔بعد میں مزید بیعھیں بھی ہوئیں۔اس طرح یہاں جماعت کے قیام کا آغاز ہوا۔ٹونگا (KINGDOM OF TONGA) یہ ملک south pacific کے جزائر میں سے ایک جزیرہ کی شکل میں ہے اور فجی کے مشرق میں واقع ہے۔1970ء میں آزاد ہوا۔یہ ملک پہلے برطانیہ کے ماتحت تھا۔1985ء میں فجی سے تین مخلص احمدی بطور واقفین عارضی ٹونگا گئے۔ان کی تبلیغی مساعی سے دو افراد بیعت کر کے میں داخل ہوئے۔اور یوں اس ملک میں پہلی بار احمدیت کا نفوذ ہوا۔اپریل 1988ء میں فجی سے مبلغ سلسلہ نے ٹونگا کا دورہ کیا۔اس دوران مزید بیعتیں ہوئیں۔اور یہاں با قاعدہ جماعت کا قیام عمل میں آیا۔Peili Lutui صاحب کو اسلام احمد بیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔نیز نبی آکر اسلام کے بارہ میں مزید معلومات حاصل کیں۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع " نے 1989ء میں جب فجی کا دورہ کیا تو Peili Lutui صاحب کا با قاعدہ انٹرو یولیا اور از راہ شفقت اُن کا اسلامی نام محمد الفاتح رکھا اور انہیں ٹونگا میں لوکل معلم کے طور پر منتخب کیا۔اپریل 2003 یعنی دور خلافت رابعہ کے اختتام تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ملک کے سب سے بڑے جزیرےTongatapu میں جماعت قائم ہو چکی تھی۔اسی جزیرہ پرٹونگا کا دارالحکومت شہر