سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 174 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 174

174 سنہری کام ہوا تھا اور نیچے ایک کھلی سی شلوار زیب تن کی ہوئی تھی۔وہ میرے کمرے میں ایک کھلے دروازے سے داخل ہوا۔اس کی آواز بلند اور مضبوط تھی۔اس کا رنگ سانولا تھا اور آنکھیں موٹی موٹی اور ناک بھی ایسی ہی تھی۔اس نے اپنی تلوار بیٹی میں سے نکال کر فضا میں لہرائی اور میں خوف محسوس کرنے لگی۔پھر میں نے سنا وہ کہہ رہا تھا میں تمہارا محافظ ہوں اور تمہارا دفاع کرنے آیا ہوں یہ سن کر میں بہت پر سکون اور مطمئن ہو گئی۔یہ چند گھڑیاں جو سکون و اطمینان کی گزریں میری تمام زندگی کو پُر مسرت اور خوش آئند بناتی ہوئی مجھ پر محیط ہوگئیں۔وہ میرا محافظ کہاں کا ہے؟ یہ میں اس سے دریافت کرتی مگر اس خیال سے کہ ایسا پوچھنا کہیں اسے ناگوار نہ گزرے چپ ہی رہی۔وہ تو زندگی بخش تھا بلکہ لافانی ! وہ انسان تھا یا ایک انسان کے لباس میں فرشتہ تھا وہ چند گھڑیاں جو میں نے اس کے ہمراہ گزاریں تو میں نے ان میں محسوس کیا کہ وہ تو ایک محبت مجسم تھا۔کیا اعتماد تھا کیا بھروسہ تھا ! وہ جو بھی تھا خواہش میری یہی تھی کہ یہ حالت سکون و اطمینان جو مجھے حاصل ہوئی ہے ہمیشہ کے لیے جاودانی ہو جائے Mistic لوگ مجھے رات دن پریشان کرتے اور مجھے مقدس تحریرات کے مطالعہ سے روکتے ہیں اور اس طرح سے اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔مگر اب تو مجھے ان کے خلاف ایک محافظ مل گیا ہے۔میں بہت خوش ہوئی اور ایک پُر مسرت شیخ میرے وجود کے اندر سے یعنی میری روح میں سے بلند ہوئی اور مجھے یوں لگا جیسے ساری کائنات اس کو سن رہی ہے اور میرا ایک کمز ور عورت کا محافظ ایک بہت عظیم شخص مقرر ہوا ہے۔مجھے یوں لگا جیسے کہ میرا خدا مجھ میں سما گیا ہے اور مجھے مردوں میں سے نکال کر زندوں میں شامل کر دیا گیا ہے۔جو صرف میں نے ہی محسوس کیا اور جیسے اپنے شعور میں صرف میں نے ہی سمجھا۔Floria Nopolis, November1975" مکرم اقبال احمد نجم صاحب لکھتے ہیں کہ سٹرامینہ نے اس کشف کے ساتھ یہ تحریر لکھ کردی : یں ایدل وائز المیداد یاز امینہ۔خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر اقرار کرتی ہوں کہ یہ میرا ایک سچا کشف