سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 124 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 124

124 جنگل کی صفائی اور جگہ کی درستی کے بعد ماہ مارچ کے آخر پر تعمیر کا اصل کام شروع ہوا۔مسجد کے انجنیئر Mr۔Felipe Cojolon تھے جنہوں نے مستریوں اور مزدوروں سے اور ٹائم لگوا کر دن رات محنت کر کے 3 جولائی 1989 ء سے پہلے اسے مکمل کروالیا۔گوئٹے مالا جیسے پسماندہ ملک میں اتنی وسیع مسجد اور مشن ہاؤس کا تعمیراتی کام محض تین ماہ کے اندر مکمل کرنا بظاہر ناممکنات میں سے تھا۔وہاں پانی اور بجلی کے مسائل بھی تھے۔اور ان ایام میں شدید بارشوں کا ایسا موسم بھی شروع ہو چکا تھا کہ جب ایک دفعہ بارش شروع ہو جائے تو دنوں بلکہ ہفتوں تک چلتی ہے۔مکرم اقبال احمد صاحب محجم اتنے قلیل عرصہ میں اور ایسے موسم کے باوجود اس مسجد کی تعمیر کو ایک معجزہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ”جب فروری 1989ء میں مسجد و مشن ہاؤس کے تعمیری کام کا آغاز ہوا تو مکرم مبارک احمد ساقی صاحب ایڈیشنل وکیل العبشیر (لندن) نے اطلاع بھیجوائی کہ اگر اسی فیصد کام بھی ہو جائے تو حضور ایدہ اللہ بنفس نفیس تشریف لا کر اس کا افتتاح فرمائیں گے۔“ چنانچہ تعمیراتی کام کو تیز کرنے کے لئے انجنیئر صاحب کے مشورہ سے زیادہ مزدور لگا کر دو شفٹوں میں کام شروع کیا گیا اور حضور رحمہ اللہ کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے لکھا گیا۔مکرم اقبال احمد نجم صاحب لکھتے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی نشان دکھایا۔چنانچہ جب ضرورت محسوس ہوتی بارش ہو جاتی اور جب ضرورت نہ محسوس ہوتی نہ برستی۔جس کے نتیجہ میں حضور کے دورہ سے قبل اس حد تک کام مکمل ہو گیا کہ آپ نے بنفس نفیس تشریف لا کر اس کا افتتاح فرمایا۔“ اس مسجد کی تعمیر کے حوالہ سے ایک اور نہایت اہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب اس مسجد کے لئے زمین خریدی گئی اور یہاں مجد کی تعمیر شروع ہوئی اس وقت گوئٹے مالا میں ایک بھی مقامی فرد احمدی نہ تھا۔لیکن حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے دورہ گوئٹے مالا کے دوران ہی چند مقامی لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے جماعت احمد یہ مسلمہ میں شمولیت کی سعادت حاصل کی۔اور آج خلافت احمدیہ کی زیر ہدایت و نگرانی خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں ایک اچھی مضبوط اور فعال جماعت قائم ہے جو نہ صرف گوئٹے مالا میں بلکہ سینٹرل امریکہ کے دیگر ممالک میں بھی تبلیغ و تربیت اور