سلسلہ احمدیہ — Page 654
654 مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتب پڑھتے رہتے ہیں وہ اپنے آپ کو وقف کریں۔آج اگر پچاس کی ضرورت ہے تو پچاس احمدیوں کو قربانی کے میدان میں نکلنا چاہئے۔اگر ڈیڑھ سو کی ضرورت ہے تو ڈیڑھ سو کونکلنا چاہئے۔یہ وقت پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔“ اب سے قبل تک جماعت احمدیہ تعلیمی میدان میں خدمت کر رہی تھی لیکن یہ خدمت پرائمری سکولوں کے قیام تک محدود تھی۔لیکن اب تک سیکنڈری سکول کھولنے میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی تھی۔۱۹۷۰ء میں جماعت نے کا نو میں ایک سیکنڈری سکول کھولا۔اس سے پہلے کا نو میں جماعت کا ہسپتال موجود تھا۔اس کے بعد ۱۹۷۱ء میں جماعت نے نائیجیریا میں مزید دو سیکنڈری سکول کھولے۔یہ سکول گوساؤ اور رمنا کے مقامات پر تھے۔ان سکولوں نے کچھ عرصہ کام کیا پھر انہیں بند کرنا پڑا۔بہت سے مقامات ایسے تھے جہاں پر باقاعدہ تبلیغ کے لئے کوئی احمدی مبلغ تو نہیں پہنچا لیکن وہاں کے لوگوں کو خود احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔ابادان کے نواح میں الا باٹا (llabata) بھی ایک ایسی ہی جگہ تھی۔یہاں کے رؤساء نے خود جماعت کی طرف پیغام بھجوایا کہ انہیں بتایا جائے کہ احمدیت کیا ہے؟ ان کے معززین کا ایک وفد آیا اور سوال و جواب کی ایک طویل نشست کے بعد انہوں نے بیعت کر لی اور اس طرح اس جگہ پر جماعت کا قیام عمل میں آیا۔اسی طرح اجیبو اوڈے کے نواح میں اموساں کے مقام پر ایک گاؤں کے لوگوں نے جماعت کو ایک وسیع قطعہ زمین پیش کیا کہ وہاں کوئی درسگاہ قائم کی جائے۔جماعت کا وفد وہاں پہنچا اور وہاں کے کچھ لوگوں کو احمدیت سے دلچسپی پیدا ہوئی اور سوال و جواب کے بعد بیعتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور وہاں پر جماعت قائم ہوگئی۔اسی طرح جب حضرت خلیفۃ اسیح الثالث" کے دورہ کا ملک میں چرچا ہوا تو اس سے بھی بہت سے مقامات پر لوگوں کو احمدیت سے دلچسپی پیدا ہوئی اور اس کے نتیجہ میں جہاں پہلے چند ایک احمدی موجود تھے وہاں با قاعدہ جماعتیں قائم ہوگئیں۔اس عمل کے نتیجے میں اکیروں، اوشو گبو اور تجبگو کے قصبوں میں بھی احمدیت کو وسعت عطا ہوئی۔(۱) خلافت ثالثہ کے دوران جماعت احمدیہ نائیجیریا کی ذیلی تنظیموں نے بھی نئی مستعدی سے کام شروع کیا۔یوں تو ۱۹۵۰ء سے خدام الاحمدیہ نائیجیریا میں قائم تھی اور اسکے پہلے قائد الحاج عبدالوحید فلاویو (Flawiyo) صاحب تھے۔لیکن ایک لمبا عرصہ تک نائیجیریا میں خدام الاحمدیہ صرف چند