سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 631 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 631

631 رمضان کے بعد حضور نے عید الفطر بھی لندن میں منائی۔لندن میں اس قیام کے دوران حضور نے ایک پر ہجوم پریس کا نفرنس سے خطاب فرمایا۔اور اسلام کے خلاف پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا مؤثر انداز میں رد فر مایا۔رپورٹروں کی یہ کوشش معلوم ہوتی تھی کہ دنیا کے موجودہ حالات میں اس انداز سے سوالات اُٹھائے جائیں جن سے یہ ثابت ہو کہ اسلام ایک امن پسند مذہب نہیں ہے۔ایک رپورٹر نے یہ سوال کیا کہ احمدیہ فرقہ اور باقی مسلمانوں کے نقطہ نظر میں اختلاف پایا جاتا ہے۔مشرق وسطی کے مسلمان ممالک میں باہم جنگ شروع ہوتی نظر آتی ہے۔آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔حضور نے فرمایا کہ میرا یہ طریق نہیں کہ میں اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کے متعلق کچھ کہوں لیکن آپ کے سوال نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں عیسائیت کا ذکر بیچ میں لاؤں۔یہ آپ کو معلوم ہے کہ ماضی قریب میں دو عالمی جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔میں پوچھتا ہوں یہ جنگیں کن قوموں کے درمیان لڑی گئیں ؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ان جنگوں میں عیسائی عیسائیوں کے خلاف لڑتے رہے۔اس کے باوجود یہ کوئی نہیں کہتا کہ ان جنگوں میں عیسائیت عیسائیت کے خلاف نبرد آزما تھی۔کسی نے ان ہولناک جنگوں کا الزام عیسائیت پر نہیں دھرا۔اگر کسی مسلمان کا عمل اسلامی تعلیم کے خلاف ہو تو پھر اس کا الزام اسلام پر کیوں؟ کسی مسلمان لیڈر کا طرز عمل اپنی جگہ ہے اور اسلام کی پُر امن تعلیم اپنی جگہ۔ایک اور رپورٹر نے بعض غیر احمدیوں کی طرف سے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا ذکر کر کے اسلام کی پُر امن تعلیم کی اہمیت کو کم کرنا چاہا۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا ایک زمانہ تھا پروٹسٹنٹ عیسائیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا اور اب انہیں کوئی کافر نہیں کہتا اور وہ عیسائی شمار ہوتے ہیں۔اگر ہمارے ساتھ بھی ایسا ماجرا گزرا ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ایسا دنیا میں ہوتا ہی آیا ہے۔بھٹو ایک ہوشیار انسان تھا اس نے اعلان یہ کیا کہ احمدی آئین یا قانون کی اغراض کے تحت غیر مسلم شمار ہوں گے۔کسی اور غرض کا اس نے ذکر نہیں کیا۔پھر حضور نے قرآنی آیت سے استدلال کر ے ثابت کیا کہ کوئی کسی کو جو نہیں سکتا کہ پنے آپ کو مسلمان بجھنے کے باوجودخود کو غیرمسلم ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ۱۷ اگست ۱۹۸۰ء کو لندن سے براستہ ایمسٹرڈم (ہالینڈ) افریقہ کے دورے کے پہلے مرحلے پر نائیجیریا کے لئے روانہ ہوئے۔راستہ میں حضور کچھ دیر کے لئے ایمسٹر ڈم (ہالینڈ) کے ایئر پورٹ پر رکے اور وہاں کے وزیر اعظم Mr۔A VAN AGT بھی امریکہ