سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 612 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 612

612 ہے۔جتنا ہم سے ہو سکتا ہے ہم کرتے ہیں۔ایک وقت میں ہم سے یہ ہوا کہ جب ۱۹۴۴ء میں تعلیم الاسلام کالج کی بنیاد پڑی۔۔۔۔۔مجھے پرنسپل مقرر کر دیا گیا۔جب میں نے قرآن کریم حفظ کیا اور مولوی فاضل پاس کیا تو میں نے انگریزی تعلیم شروع کر دی۔پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی۔پھر آکسفورڈ چلا گیا۔جب واپس آیا تو حضرت صاحب کو خیال تھا کہ شاید میں عربی بھول گیا ہوں گا، دینی تعلیم بھول گیا ہوں گا۔مجھے جامعہ احمدیہ میں استاد لگا دیا۔پھر میں نے از سر نو تیاری کی، پڑھا اور پڑھایا اور ۱۹۳۸ء کے آخر سے لے کر ۱۹۴۴ء تک جامعہ احمدیہ میں ایک استاد کی حیثیت سے پھر پرنسپل کی حیثیت سے میں نے کام کیا۔پھر ۱۹۴۴ء میں جب کالج بنا تو مجھے جامعہ احمدیہ سے نکال کر ( میں واقف زندگی ہوں میں یہ واقعہ بتا رہا ہوں ہر قدم پر ہر حکم میں نے بشاشت سے قبول کیا۔میں نے اپنی زندگی وقف کی تھی خدمت کے لئے اپنے آرام کے لئے نہیں کی تھی ) کہا گیا کہ تم کالج کے پرنسپل لگ جاؤ۔خیر میں بن گیا پرنسپل۔ایک ہدایت جو مجھے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دی، وہ یہ تھی کہ کالج ہم نے اس پسماندہ ملک کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے جاری کیا ہے تبلیغ کے لئے جاری نہیں کیا۔اس کے لئے ہمارے دوسرے محکمے ہیں۔اس واسطے اس کالج میں ہر عقیدہ کا لڑکا جو غریب اور ذہین ہے اس کو اگر تمہاری طاقت ہے اور جس حد تک تمہاری طاقت ہے تم نے پڑھانا ہے۔یہ چیز میرے دماغ میں حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اچھی طرح داخل کر دی تھی۔اللہ جانتا ہے ولا فخر ہماری جماعت کا مزاج ہے بے لوث خدمت کرنا اور ہر احمدی کا بھی یہی مزاج ہے۔یونیورسٹی کا قاعدہ یہ ہے کہ ایک پرنسپل کل تعداد طلباء کی جو ہے اس کی دس فیصدی کو نصف فیس معاف کر سکتا ہے اور بس۔یعنی اگر چار سولڑ کا ہو تو صرف ۴۰ لڑکوں کی آدھی فیس معاف کر سکتا ہے اس سے زیادہ کی نہیں کر سکتا۔مجھے جو حکم تھا وہ یہ تھا کہ ذہین بچے کو پڑھا سکتے ہو تو پڑھاؤ۔سچی بات یہ ہے کہ کسی سے نہیں پوچھا میں نے کہ یونیورسٹی کا قاعدہ میں توڑنے لگا ہوں تو ڑوں یا نہ توڑوں۔میں نے یہ سوچا جب میرا امام حضرت مصلح موعود یہ کہہ رہا ہے کہ