سلسلہ احمدیہ — Page 595
595 ہے وہ یہ ہے کہ میں اہل امریکہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس زمانہ میں نوع انسان نے اپنے مقصد کو فراموش کر دیا ہے اور وہ سراسر بے مقصد زندگی بسر کر رہے ہیں۔اس کی مثال بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اس زمانہ میں انسان نے اپنی عقل کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔حضور نے مثالوں سے عقل کی نارسائی کو واضح فرمایا اور بیان فرمایا انسان کو اللہ تعالیٰ کے سہارے کی کیوں ضرورت ہے اور اسے کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔اسی روز حضور نے نیو یارک کی جماعت کی طرف سے دیئے جانے والے استقبالیہ میں شرکت فرمائی جس میں اقوام متحدہ میں متعین مختلف ممالک کے سفارتی نمائندگان نے بھی شرکت کی۔حضور نیو یارک سے میڈیسن ( نیو جرسی ) تشریف لے گئے۔یہاں پر حضور نے ۶ راگست ۱۹۷۶ء کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جماعتوں کے سالانہ کنونشن کا افتتاح فرمایا۔کنونشن کے با قاعدہ افتتاح سے قبل شہر کے میئر نے حضور کو خوش آمدید کہا۔اپنے افتتاحی خطاب میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث" نے خلافت احمدیہ کے مقام کی اہمیت واضح فرمائی اور احباب کو نصیحت فرمائی کہ وہ خلافت کی مضبوط رسی کو تھامے رکھیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفے ﷺ کے لائے ہوئے پیغام کی اشاعت کے لئے کوشاں رہیں۔اس کنونشن کے اختتامی خطاب میں حضور نے نئی نسل کی تربیت کے ایک جامع منصوبہ کا اعلان فرمایا اور نوع انسانی کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے امریکی احمد یوں کو ان کی اہم اور عظیم ذمہ داری کی توجہ دلائی۔۸/ اگست ۱۹۷۵ء کو حضور واشنگٹن سے کینیڈا کے شہر ٹورونٹو تشریف لے گئے۔تقریباً چارصد احباب نے حضور کے استقبال کی سعادت حاصل کی۔یہ پہلا موقع تھا خلیفہ وقت کینیڈا کے ملک کا دورہ فرما رہے تھے۔کینیڈا پہنچنے کے اگلے روز ہی حضور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔اور اس کے بعد حضور کی زیر صدارت کینیڈا کے مختلف امراء کی میٹنگ منعقد ہوئی۔حضور کی خدمت میں مختلف جماعتی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی گئی۔اور یہ صورت حال بھی حضور کی خدمت میں پیش کی گئی کہ کینیڈا میں کوئی باقاعدہ مبلغ مشن ہاؤس اور مسجد نہ ہونے کی وجہ سے منظم بنیادوں پر کام نہیں ہو رہا۔مسجد کی بابت حضور نے ارشاد فرمایا کہ موجودہ مرحلہ میں ہم کو مسجد کی تعمیر پر زیادہ رقم نہیں خرچ کرنی چاہئے بلکہ افادیت کو مد نظر رکھ کر ایسی مسجد تعمیر کرنی چاہیے جس سے ضرورت پوری ہو سکے۔اس مرحلہ پر ایک دوست نے عرض کی کہ آجکل چرچ کی عمارتیں فروخت ہو رہی ہیں اور سستے داموں مل