سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 43 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 43

43 وقف جدید میں دفتر اطفال کا اجراء جیسا کہ پہلے ذکر آپکا ہے کہ حضرت طلیقہ مسیح الثانی نے ۱۹۵۷ء میں وقف جدید کا آغاز فرمایا تھا۔اس کے معاً بعد حضرت مصلح موعود کی علالت نے شدت اختیار کر لی اور شروع میں اس تنظیم کی ترقی کی رفتار سست رہی اور پہلے چار سال میں بجٹ بڑھنے کی بجائے کم ہوتا گیا اس کے بعد وقف جدید کے چندہ میں تدریجاً اضافہ ہونا شروع ہوا (۱)۔۶۴ - ۶۵ء کے مالی سال میں بجٹ ایک لاکھ ستر ہزار روپے تھا اور عملاً وصولی ایک لاکھ اٹھارہ ہزار روپے ہوئی۔۶۵۔۲۶ ء کے مالی سال میں بجٹ ایک لاکھ ستر ہزار روپے تھا لیکن وصولی ایک لاکھ چھتیس ہزار روپے ہوئی۔اس طرح اگر چہ وقف جدید کے چندے میں اضافہ ہو رہا تھا مگر کام کی اہمیت ، اس سے زیادہ مالی قربانی کا تقاضا کرتی تھی۔ابتدا میں چند معلمین کے ساتھ اس کام کا آغاز کیا گیا تھا ، حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خواہش تھی کہ اس تحریک کے تحت ہزاروں معلمین کام کریں اور اس کا دائرہ کار صرف پاکستان تک محدود نہ رہے بلکہ دوسرے ممالک کے واقفین بھی اس مبارک تحریک میں شامل ہوں۔لیکن ۱۹۶۶ ء تک صورت حال یہ تھی کہ صرف ۶۴ معلمین مختلف جماعتوں میں کام کر رہے تھے اور سترہ زیر تعلیم تھے۔جبکہ اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ ہر جماعت میں کم از کم ایک معلم مقرر کیا جائے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے وقف عارضی کا آغاز کیا اور اس کے تحت مختلف جماعتوں میں وفود بھجوائے گئے تو ان میں سے ساٹھ ستر فیصد وفود نے یہ رپورٹ دی کہ ان جماعتوں میں ایک معلم ضرور بھجوانا چاہئے اور جماعتوں کی طرف سے بھی اس بات کا اظہار ہوا کہ جب تک اسے کوئی معلم نہ دیا جائے وہ اپنے فرائض کو کما حقہ ادا نہیں کر سکتی۔ان ضروریات کے پیش نظر حضور ” نے ۷ اکتوبر ۱۹۶۶ ء کے خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی کہ وقف جدید کے معلمین کی جونئی کلاس شروع ہوگی اس میں کم از کم سو واقفین شامل ہونے چاہئیں۔اور فرمایا کہ ہر سال اساتذہ کی ایک بڑی تعداد ریٹائر ہوتی ہے اگر پنشن یافتہ اساتذہ اپنی بقیہ عمر وقف جدید کے تحت وقف کر دیں تو ہمیں زیادہ اچھے اور تجربہ کار واقفین مل سکتے ہیں بشرطیکہ وہ خلوص نیت رکھنے