سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 449 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 449

449 اور ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات بھی صاف اور بدیہی طور پر ظاہر ہورہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگی کا وقف کرنا جو حقیقت اسلام ہے دو قسم پر ہے۔ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبوب ٹھہرایا جائے۔اور اس کی عبادت اور محبت اور خوف اور رجا میں کوئی دوسرا شریک باقی نہ رہے اور اس کی تقدیس اور تسبیح اور عبادت اور تمام عبودیت کے آداب اور احکام اور اوامر اور حدود اور آسمانی قضا و قدر کے امور بدل و جان قبول کئے جائیں اور نہایت نیستی اور تذلیل سے ان سب حکموں اور حدوں اور قانونوں اور تقدیروں کو بارادت تام سر پر اُٹھا لیا جاوے اور نیز وہ تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف جو اس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اور اس کی ملکوت اور سلطنت کے علو مر تبہ کو معلوم کرنے کے لئے ایک واسطہ اور اس کے آلاء اور نعماء کے پہچاننے کے لئے ایک قومی رہبر ہیں بخوبی معلوم کر لی جائیں۔۔۔۔ابھی حضور نے یہ حوالہ یہیں تک ہی پڑھا تھا کہ مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔وہ سپیکر صاحب سے کہنے لگے کہ جناب یہ محضر نامے کے صفحات پڑھ رہے ہیں۔یہ ہم نے پڑھ لئے ہیں۔اسلام کی یہ تعریف مرزا صاحب نے اپنے تقدس کو ظاہر کرنے کے لئے کی ہے۔پڑھنے والے اس بات کو خود ہی پرکھ سکتے ہیں کہ اس جواب کو شروع کرنے سے پہلے ہی حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے یہ فرما دیا تھا کہ اس سوال کا جواب تو محضر نامہ میں آچکا ہے لیکن چونکہ سوال دہرایا گیا ہے اس لئے میں اس کے جواب کو دہرانا چاہوں گا۔سوال کرنے والوں کی حالت یہ تھی کہ ان کے پاس کرنے کو وہی گھسے پٹے سوالات تھے جنہیں وہ مسلسل دہرائے جا رہے تھے اور یہ سوال کتنے ہی عرصہ سے کئے جا رہے تھے۔نیا سوال کوئی بھی نہیں تھا۔لیکن جب جواب سنایا جاتا تھا تو وہ ان سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔جب اس کے متعلق ایک بار پھر سوال کیا گیا کہ کیا یہ والہ محضر نامے میں ہے تو اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ پہلے دن یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ اگر سوال کو دہرایا جائے گا تو جواب بھی دہرایا جائے گا۔اس کے بعد اس حوالے پر سوالات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کر کے جو بحث اُٹھائی وہ بی تھی۔انہوں نے حضور سے سوال کیا کہ اس وقت آپ کے نزدیک کتنے لوگ اس Definition کے مطابق حقیقی مسلمان ہوں گے۔اب یہ ایک عجیب بچگانہ سوال تھا۔