سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 311 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 311

311 وزیر قانون نے اس قرارداد میں جو انہوں نے پیش کی تھی اور اپوزیشن کی پیش کردہ قرارداد میں مشتر کہ امور کی نشاندہی کی۔ایوان نے اس قرارداد کو بھی سپیشل کمیٹی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔(۲۹ تا ۳۱) اب یہ بات قابل توجہ ہے کہ ابھی اس موضوع پر اسمبلی کی با قاعدہ کارروائی شروع ہی نہیں ہوئی اور ابھی جماعت احمدیہ کا موقف سنا ہی نہیں گیا تو اپوزیشن ایک مشتر کہ قرارداد پیش کرتی ہے کہ احمدیوں کو آئین میں غیر مسلم قرار دیا جائے اور حکومت یہ کہتی ہے کہ ہم اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔تو باقی رہ کیا گیا۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ابھی کارروائی شروع نہیں ہوئی تھی کہ اصل میں فیصلہ ہو چکا تھا اور بعد میں جو کچھ کا رروائی کے نام پر ہو اوہ محض ایک ڈھونگ تھا۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے اس بارے میں سوال کیا۔تو ان کا جواب تھا کہ مجھے صحیح تو معلوم نہیں لیکن یہ ہوا ہوگا کہ جب قرار داد پیش ہوئی ہوگی تو پیرزادہ صاحب بھٹو صاحب کے پاس گئے ہوں گے کہ یہ قرار داد ہے اب کیا Attitude لیں۔تو بھٹو صاحب نے کہا ہوگا کہ پیش ہونے دو۔مخالفت نہ کرو۔تو اب انہیں یہ سمجھ میں نہیں آئی کہ کیا الفاظ استعمال کریں۔تا کہ یہ کہہ بھی دیں اور ان الفاظ میں نہ کہیں اب تو پکڑے گئے۔اور پھر جب ہم نے یہ بات دہرائی کہ یہ واقعہ تو ۳۰ جون کا ہے تو ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے کہا۔”ہاں بالکل بیوقوف تھا لاء منسٹر۔اگر وہ بھٹو صاحب کا ساتھی ہوتا تو اس طرح انہیں expose نہ کرتا۔“ جب انہیں کہا گیا کہ یہ تو انصاف سے بعید ہے کہ ایک فرقہ کا موقف سنے بغیر آپ فیصلہ سنا دیں۔اس پر ان کا جواب تھا نیت تو ہو گئی تھی۔“ جب ہم نے یہ سوال اس وقت کے سپیکر صاحب صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے پوچھا کہ ۲۰ جون کو جب اپوزیشن نے یہ قرارداد پیش کی تو حکومت نے کہا کہ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس وقت تک فیصلہ ہو چکا تھا تو ان کا جواب تھا: در نہیں وہ اس سے پہلے جائیں ناں رابطہ عالم اسلامی کی طرف“