سلسلہ احمدیہ — Page 241
241 شامل تھے۔ان کے لئے مرکز چاڈ میں بنانے کی تجویز دی گئی۔اس کمیٹی نے تجویز کیا کہ مشرقی افریقہ میں تین مراکز قائم کیے جائیں۔مشرقی افریقہ کو جن حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا ان میں سے ایک حصہ ایتھوپیا اور صومالیہ پرمشتمل تھا مگر ان ممالک میں اس وقت بھی جماعت کا مشن کھولنے کے راستے میں مشکلات حائل تھیں۔دوسرا حصہ کینیا، یوگینڈا، تنزانیہ، زیمبیا اور زائر پر مشتمل رکھا گیا۔اور تیسرا حصہ ماریشس اور مڈغاسکر پر مشتمل تھا۔ان میں سے ماریشس میں پہلے ہی سے مشن موجود تھا ، سفارش کی گئی کہ مڈغاسکر میں بھی مشن کھولا جائے۔برطانیہ کو چار حصوں یعنی انگلستان، ویلز ، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ میں تقسیم کیا گیا۔انگلستان میں تو پہلے ہی لندن میں مشن ہاؤس موجود تھا۔سٹینڈنگ کمیٹی نے ویلز ، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ میں بھی تبلیغی مراکز کھولنے کی سفارش کی۔اس کے علاوہ شمالی اور وسطی انگلستان میں بھی مشن ہاؤس کھولنے کی سفارش کی گئی۔سٹینڈنگ کمیٹی نے یہ تجویز دی کہ جرائد میں خاص طور پر ریویو آف ریجنز کی طرف خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس میں بین الاقوامی دلچسپیوں کے مضامین لکھے جائیں۔اور اس کی اشاعت کو دس ہزار تک پہنچایا جائے۔شروع میں دنیا کی مختلف لائبریریوں میں تعلیمی اداروں میں اور دنیا کی مختلف اہم شخصیات کو یہ رسالہ مفت بھجوایا جائے۔اسی طرح جماعت کے دوسرے اخبارات اور جرائد میں بھی مختلف ممالک کے بارے مضامین شائع کئے جائیں۔سٹینڈنگ کمیٹی نے مسلمانوں میں اتحاد عمل کے قیام اور تکفیر کی گرم بازاری کو روکنے کے لئے یہ اصولی سفارش تیار کی کہ غیر از جماعت علماء کو قرآن شریف کی اشاعت اور سیرت طیبہ کی اشاعت کے میدان میں تعاون کرنے یا مخالفت نہ کرنے کی پیشکش کی جائے۔لیکن اس کے ساتھ یہ امر بھی سامنے آیا کہ موجودہ حالات میں پاکستان میں اس تجویز پر عملدرآمد کا ماحول نہیں اور کوئی بھی تعاون کرنے کو تیار نہیں البتہ انڈو نیشیا اور افریقہ میں خصوصیت سے یہ تحریک چلائی جائے۔نیشلزم اور انٹر نیشلزم میں صحیح توازن پیدا کرنے کے لئے کہ مرکز سلسلہ سے مختلف بزرگانِ سلسلہ پاکستان سے باہر ممالک کے دوروں پر جائیں۔اسی طرح جلسہ سالانہ کے علاوہ دوسری جماعتی تقریبات میں بھی دوسرے ممالک سے وفود کی آمد کا سلسلہ بھی بین الاقوامی اخوت کے لئے مفید ہوگا۔