سلسلہ احمدیہ — Page 210
210 ۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلس شوری اب تک ہم یہ جائزہ لیتے رہے ہیں کہ ۱۹۷۳ ء کے پہلے تین ماہ کے اختتام تک اس بات کے آثار نظر آرہے تھے کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین پہلے کی طرح ایک بار پھر جماعت احمدیہ کے خلاف سازش تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن بہت سے حقائق ابھی منظرِ عام پر نہیں آئے تھے۔احباب جماعت کو بھی یہ علم نہیں تھا کہ ۱۹۵۳ء کی نسبت بہت زیادہ وسیع پیمانہ پر یہ سازش تیار کی جارہی تھی۔۱۹۷۳ء کی مجلس مشاورت حسب معمول ۰ ۳مارچ تا یکم اپریل ۱۹۷۳ء منعقد ہوئی تھی سراب ایسے حالات پیدا ہو رہے تھے جن سے جماعت کو آگاہ کرنا ضروری تھا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے خصوصی ارشاد پر ۲۷ مئی ۱۹۷۳ء کو مجلس مشاروت کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔حسب قواعد اس میں جملہ نمائندگان مجلس مشاورت ۱۹۷۳ء کو مدعو کیا گیا کیونکہ قواعد کے مطابق کسی مجلس شوری کا نمائندہ پورے سال کے لئے نمائندہ ہوتا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے حضور نے ۱۹۷۰ ء کے انتخابات کے وقت ملک کی صورت حال اور انتخابات میں جماعت احمدیہ کے فیصلے کی حکمت کا تفصیلی تجز یہ فرمایا۔چونکہ اس وقت تک یہ بات ظاہر ہو چکی تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک گروہ با وجود اس حقیقت کے کہ انتخابات کے مرحلہ پر احمدیوں نے ان کی مدد کی تھی اور وہ خود درخواست کر کے احمدیوں کی مدد طلب کر رہے تھے ،اب جماعت کی مخالفت میں سرگرم نظر آرہے تھے۔وہ اقتدار میں آکر سمجھتے تھے کہ اب انہیں اس غریب مزاج گروہ کی کیا ضرورت ہے بلکہ اب احمدیوں کی مخالفت کر کے وہ مولویوں کی آنکھوں کا تارہ بن سکتے ہیں۔دنیاوی نگاہ سے دیکھا جائے تو ان کا تجز یہ غلط بھی نہیں تھا لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھ پارہے تھے کہ اس غریب جماعت کا ایک مولا ہے جو ان کی حفاظت کر رہا ہے۔حضور نے اس مجلس شوری سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین کے تین گروپ ہیں۔پہلا گروہ وہ ہے کہ جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا ہے وہ جماعت احمدیہ کے دشمن چلے آرہے ہیں۔اور اب جب کہ وہ اسمبلیوں کے ممبر اور حق و انصاف کے امین ہیں ہنوز ہمارے بڑے سخت مخالف اور معاند ہیں۔اور