سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 109 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 109

109 میں امیر صاحب گیمبیا، سنگھاٹے صاحب ، مسٹر ٹی بی فون صاحب اور مکرم ڈاکٹر سعید احمد صاحب نے شرکت کی۔اس میٹنگ میں جائزہ لیا گیا کہ اس ملک کی کس طرح خدمت کی جاسکتی ہے۔مسٹر ٹی بی فون نے عرض کی کہ یہاں پر مسلمان بچوں کے لئے کوئی سکول نہیں اور اس سے احمدی بچے بھی بہت متاثر ہوتے ہیں۔سنگھاٹے صاحب نے بھی تائید کی کہ یہاں پر سکول کھولنا ضروری ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اگر ہم سات سال میں پانچ سکول کھول لیں تو ایک دن یو نیورسٹی بنانی پڑے گی۔حضور نے مکرم ڈاکٹر سعید صاحب کو میڈیکل سینٹر کھولنے کے منصوبے کا جائزہ لینے کا ارشاد فرمایا۔نیز ارشاد فرمایا کہ یہاں پر آنکھوں کا ماہر ڈاکٹر آنا چاہئے۔مکرم سنگھائے صاحب نے عرض کی کہ یہاں کے لوگوں کو مشنری بنے کی تربیت دی جائے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ یہاں سے بچے ربوہ بھیجیں جو وہاں جا کر دینی تعلیم حاصل کریں۔اور پھر غانا کے مبلغ مکرم عبدالوہاب بن آدم صاحب کا ذکر کر کے ان کے کام کی تعریف فرمائی اور فرمایا کہ ہمارے لئے تو عربی اور اس کے بعد اردو زبان سیکھنا ضروری ہیں۔ایک نئی سکیم پر انشاء اللہ عمل درآمد ہونے والا ہے جس کے تحت لوگوں کو عربی اور اردوزبانوں سے روشناس کرایا جائے گا۔اور ارشاد فرمایا کہ قاعدہ میسر نا القرآن پڑھایا کریں اس سے بھی اردو آ جاتی ہے۔مئی کو حضور نے مقامی احباب سے خطاب فرمایا۔اور اسی شام کو حضور نے باتھرسٹ کے مضافات میں جماعت کے نصرت سیکینڈری سکول کا سنگ بنیا درکھا اور رات کو جماعت کی مجلس عاملہ کی طرف سے حضور کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا گیا۔۴ مئی کو حضور سیر کے لئے شہر سے بتیس میل تک باہر گئے اور راستے میں مقامی لوگوں کی جھونپڑیاں بھی ملاحظہ فرمائیں۔شام کو جماعت کے پریذیڈنٹ صاحب کے گھر پر چائے کے لئے تشریف لے گئے۔اس رات حضور نے ملک کے وزیر تعلیم اور وزیر صحت کو رات کے کھانے پر مدعو فر مایا۔مکرم سنگھائے صاحب اور پریذیڈنٹ صاحب جماعت بھی اس دعوت اور میں شریک تھے۔اگلے روز ۵ مئی کو حضور گیمبیا سے سیرالیون کے لئے روانہ ہو گئے۔(۳۸) سیرالیون کا دورہ حضور کے دورہ افریقہ کے آخر پر سیرالیون کے دورے کا پروگرام تھا۔باقی ممالک کی طرح سیرالیون کے احمدی بھی بے تابی سے اپنے امام کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔یہاں کے اخبارات میں