سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 74 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 74

74 منفی رحجانات سے بچنے کی تلقین: ۱۹۳۹ء کا سال وہ سال تھا جب مختلف اقوام کے درمیان کشیدگی اور ایک دوسرے کے لیے نفرت کے جذبات پوری دنیا میں عروج پر تھے۔دوسری جنگِ عظیم شروع ہو چکی تھی اور دنیا کی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کا خون بے دریغ بہا رہی تھیں۔کچھ ممالک میں نسلی برتری کا بے جا احساس پیدا کیا جا رہا تھا اور وہ دوسری اقوام کو حقیر سمجھ رہے تھے۔ایشیا اور افریقہ کی جو اقوام یورپی اقوام کی محکوم تھیں ان میں آزادی کی تحریکات چل رہی تھیں اور ان تحریکوں کو اپنی منزل زیادہ دور نہیں لگ رہی تھی لیکن اس کے ساتھ ان اقوام کے لیے جو ان پر حکمران تھیں نفرت بھی سلگ رہی تھی۔اور ہندوستان میں تو مذہبی اور سیاسی اختلافات کی بناء پر آپس میں مخالفانہ جذبات بھی عروج پر تھے۔ایسے جذبات رکھنے والوں کی دور کی نظر کمزور ہوتی ہے۔اسلام کا پیغام تو پوری دنیا کے لیے ہے۔اس میں کسی قوم کے لئے نفرت کی کوئی گنجائش نہیں۔وہ وجود جن کی تربیت آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی ان کی تو یہ کیفیت تھی کہ اپنے بدخواہوں اور دشمنوں کے متعلق ان کے جذبات کے متعلق خود اللہ تعالیٰ ے یہ گواہی دی ہے کہ انتُمْ أُولَاء تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ (۱۶) تم ایسے ہو کہ ان سے محبت کرتے ہو جبکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔اس تعلیم کی روشنی میں حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے اختتامی خطاب میں جو آخری نصیحت فرمائی وہ یہ تھی پھر غیروں کے لیے بھی دعائیں کرو۔ان کے لیے اپنے دلوں میں غصہ نہیں بلکہ رحم پیدا کرو۔خدا تعالیٰ کو بھی اس شخص پر رحم آتا ہے جو اپنے دشمن پر رحم کرتا ہے۔پس تم اپنے دلوں میں ہر ایک کے متعلق خیر خواہی اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرو۔انہی دنوں ایک وزیری پٹھان آئے اور کہنے لگے۔دعا کریں انگریز دفع ہو جائیں۔میں نے کہا۔ہم بددعا نہیں کرتے۔یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ہو جائیں۔پس کسی کے لیے بد دعا نہ کرو۔کسی کے متعلق دل میں غصہ نہ رکھو۔بلکہ دعائیں کرو۔اور کوشش کرو کہ اسلام کی شان و شوکت بڑھے اور ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔‘ (۱۷) یقیناً امام وقت کی خواہش صرف یہاں تک محدود نہیں ہوسکتی تھی کہ ایک قوم ایک ملک سے نکل