سلسلہ احمدیہ — Page 628
628 نائیجیریا: جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ۱۹۳۰ء کی دہائی کے آخر پر ، جب مکرم مولا نا فضل الرحمن حکیم صاحب مرکزی مبلغ کی حیثیت سے نائیجیریا پہنچے تو وہاں کے احمدیوں کے ایک بدقسمت گروہ نے نظام جماعت اور نظام خلافت سے علیحدگی اختیار کر لی۔اور اپنا ایک علیحدہ گروہ قائم کر کے جماعت پر مقدمات قائم کرنے شروع کر دیئے، ان مقدمات کے نتیجے میں بہت سی املاک جماعت کے ہاتھوں سے نکل گئیں۔۱۹۴۰ء تک نائیجیریا کی جماعت پر مصائب کی یہ آندھی چلی جو بڑے بڑے عمائدین کو اپنے ساتھ اُڑا کر لے گئی۔جماعت کے بعض نام نہاد عمائدین نے جب جماعت کے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا تو حضرت مصلح موعودؓ نے انہیں نظام جماعت سے خارج فرما دیا۔اس رو میں جماعت کے بعض ابتدائی ممبران بھی بہہ گئے۔۱۹۴۲ء میں بھی متعد دلوگ گمراہ ہوئے اور مخرجین کے گروہ میں شامل ہو گئے۔لا محالہ اس سے معاندین جماعت کو بہت مسرت حاصل ہوئی اور انہوں نے یقین کر لیا کہ اب آسمان ان لوگوں پر ٹوٹ پڑا ہے اور اب اس ملک سے احمدیت کا خاتمہ ہوا چاہتا ہے۔بعض اخبارات نے ان خبروں کو غیر معمولی اہمیت دی اور بڑی بڑی سرخیوں اور دلکش عنوانات سے یہ خبریں شائع کیں۔ہر طرف یہی کہا جا رہا تھا کہ امراء ورؤساء نے تو اس جماعت کو چھوڑ دیا ہے، اب یہ مفلسوں اور قلاشوں کی جماعت ہے۔یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔بلکہ جلد ہی انہیں مخرجین کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔لیکن خدا کی تقدیر کچھ اور ہی ظاہر کرنے والی تھی۔ایک مرتبہ پھر دشمنوں کی خواہشیں حسرتوں میں بدلنے والی تھیں۔(۱) اس صورتِ حال میں مکرم مولا نا فضل الرحمن حکیم صاحب مردانہ وار ان مشکل حالات کا مقابلہ کر رہے تھے۔جیسا کہ پہلے یہ ذکر آچکا ہے کہ ۱۹۳۸ء سے انہوں نے نائیجیریا میں جماعت کے احیاء کے لئے ملک گیر دورے شروع کئے تاکہ نئی جماعتیں قائم ہوں اور احمدیوں کی تربیت بہتر انداز میں ہو سکے۔چنانچہ انہوں نے ۱۹۴۲ء میں بھی ایک ملک گیر دورہ کیا جو کہ اپریل ۱۹۴۲ء سے شروع ہو کرنومبر ۱۹۴۲ء تک جاری رہا۔اس طرح آپ نے مسلسل نو ماہ تک لیگوس سے باہر رہ کر تبلیغ اور رابطے کے ذریعہ جماعت کو ازسر نو منظم کیا۔